واشنگٹن (07 مارچ 2026): ایران جنگ کے باعث توانائی کی فراہمی کے خدشات بڑھنے پر امریکا نے بھارت کو روسی تیل خریدنے کے لیے 30 دن کی چھوٹ دے دی۔امریکی وزیر خزانہ کا کہنا ہے پہلے ہی سمندر میں رکے ہوئے روسی خام تیل کی بھارت کو فروخت کرنے کے لیے 30 دن کی رعایت دی ہے، یہ عارضی رعایت عالمی منڈی میں مسلسل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ہے۔امریکی وزیر خزانہ کے مطابق یہ اقدام صرف اُس تیل پر لاگو ہوگا جو پہلے ہی سمندر میں پھنسا ہوا ہے، اس سے روسی حکومت کو کوئی بڑا مالی فائدہ نہیں ہوگا۔یاد رہے کہ امریکا نے بھارت کی جانب سے روسی خام تیل خریدنے پر پہلے 25 فی صد ’’جرمانہ‘‘ ٹیرف عائد کیا تھا جو گزشتہ ماہ واپس لے لیا گیا تھا۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ایران کی جنگ نے عالمی تیل کی فراہمی کو متاثر کر دیا ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق روسی تیل کی خریداری پر دی گئی اس رعایت سے عالمی سطح پر تیل کی فراہمی کے خدشات کم ہونے میں مدد مل سکتی ہے، کیوں کہ بھارت دنیا کا چوتھا بڑا ریفائننگ ملک اور پیٹرولیم مصنوعات کا پانچواں بڑا برآمد کنندہ ہے۔امریکا میں بھی پیٹرول کی قیمت آسمان پر پہنچ گئیماہرین کے مطابق نئی دہلی، جو دنیا کا تیسرا بڑا تیل درآمد کرنے والا ملک بھی ہے، پہلے روسی تیل کی خریداری کم کر کے اس کی جگہ مشرقِ وسطیٰ سے سپلائی لے رہا تھا۔ تاہم خلیجی ممالک سے توانائی کی فراہمی ایران جنگ کی وجہ سے متاثر ہونے کے بعد بھارت دوبارہ ماسکو سے تیل کی سپلائی مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔مارکیٹ میں گردش کرنے والی معلومات کے مطابق نئی دہلی نے گزشتہ دو سے تین دنوں میں ممکنہ طور پر 60 سے 80 لاکھ بیرل تک روسی تیل خرید لیا ہے۔