مشہور و معروف اداکار اور سیاستداں کمل ہاسن نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو ایک کھلا خط لکھا ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ اپنے کام سے کام رکھیں۔ کمل ہاسن نے یہ خط خاص طور سے ہندوستان پر ٹرمپ کے ذریعہ لگائی جا رہی بندشوں سے ناراض ہو کر لکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہندوستان ایک آزاد ملک ہے جو اب کسی سے ’احکامات‘ نہیں لیتا۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب 6 مارچ کو امریکہ نے اعلان کیا کہ وہ ہندوستانی ریفائنریوں کو روسی تیل کی خریداری جاری رکھنے کے لیے 30 دن کی ’عارضی‘ رعایت دے رہا ہے۔ToThe President of the United States of America @POTUSDear Mr. President, We, the people of India, belong to a free and sovereign nation. We no longer take orders from distant foreign shores.Please mind your own business to the best of your abilities.Mutual respect…— Kamal Haasan (@ikamalhaasan) March 7, 2026کمل ہاسن نے ہفتہ کی شام اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ڈونالڈ ٹرمپ کے نام یہ کھلا خط جاری کیا۔ خط میں انہوں نے لکھا کہ ’’محترم صدر صاحب! ہم، ہندوستانی عوام، ایک آزاد اور خود مختار ملک کے شہری ہیں۔ اب ہم دور دراز کے ممالک سے احکامات نہیں لیتے۔ براہ کرم اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ اپنے کام سے کام رکھیں۔‘‘ وہ آگے لکھتے ہیں کہ ’’خودمختار ممالک کے درمیان باہمی احترام ہی دنیا میں دیرپا امن کی بنیاد ہے۔ ہم آپ کے ملک اور اس کی عوام کے لیے امن و خوشحالی کی دعا کرتے ہیں۔‘‘قابل ذکر ہے کہ امریکہ و اسرائیل کے ذریعہ ایران پر کیے گئے حملوں اور ایران کے ذریعہ جوابی حملوں کے درمیان پیدا حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے امریکہ نے ہندوستانی ریفائنریوں کو روس سے تیل یا توانائی خریدنے کی عارضی چھوٹ دی ہے۔ عالمی سطح پر پیدا موجودہ کشیدگی کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کا خدشہ بڑھ گیا ہے، جس کے اثرات خلیجی ممالک پر بھی پڑے ہیں۔’ہندوستان کو روس سے تیل درآمدگی کی اجازت دینے یا نہ دینے کا حق امریکہ کو کس نے دیا؟‘ کانگریس کا سوالامریکہ کے ذریعہ ہندوستان کو عارضی چھوٹ دیے جانے کے بعد روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا کا بھی ایک بیان سامنے آیا تھا۔ انھوں نے نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے حوالہ سے کہا کہ ہندوستان کی جانب سے روسی ہائیڈروکاربن کی خریداری دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہے اور اس سے عالمی توانائی منڈی میں استحکام برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔