نئے ایرانی سپریم لیڈر کے انتخاب کے لیے مجلس خبرگان رہبری کا اجلاس کل ہونے کا امکان ہے۔رکن اسمبلی آیت اللہ مظفری کا کہنا ہے کہ مجلس خبرگان کا اجلاس ایک دن کے اندر ہوگا، اجلاس میں ایران کے نئے سپریم لیڈر کا انتخاب کیا جائے گا۔ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ سیاسی اور سیکیورٹی صورت حال کے پیش نظر اجلاس پر غور جاری ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق معروف شیعہ مرجع تقلید اور گرینڈ آیت اللہ ناصر مکرم شیرازی نے کہا ہے کہ ملک کے معاملات کو بہتر انداز میں منظم کرنے کے لیے نئے سپریم لیڈر کا جلد تقرر ضروری ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ قیادت کا خلا زیادہ دیر تک برقرار رہنا ملکی نظم و نسق کے لیے مناسب نہیں اور ملک کے تازہ ترین حالات بھی اس میں کوتاہی کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ اس لیے نئے سپریم لیڈر کی فوری انتخاب کا مطالبہ کرتے ہیں۔اسی طرح ایک اور بااثر گرینڈ آیت اللہ حسین نوری ہمدانی نے بھی ایران کی مجلسِ خبرگان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خامنہ ای کے جانشین کے انتخاب کے عمل کو تیز کرے تاکہ ملک میں غیر یقینی صورت حال کا خاتمہ ہوسکے۔ان دونوں سینئر مذہبی شخصیات نے فتوے بھی جاری کیے تھے جن میں دنیا بھر کے مسلمانوں سے خامنہ ای کے قتل کا بدلہ لینے کا مطالبہ کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ مسلمانوں پر یہ دینی فریضہ ہے کہ وہ ان مجرموں کے شر کو دنیا سے ختم ہونے تک اس معاملے کو زندہ رکھیں۔یاد رہے کہ ایران کے آئین کے مطابق سپریم لیڈر کی عدم موجودگی میں عارضی طور پر ایک تین رکنی کونسل اختیارات سنبھالتی ہے، جس میں صدر، ایک سینئر مذہبی عالم اور عدلیہ کے سربراہ شامل ہوتے ہیں۔