’امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ میں کیا ہوگا، اس کی پیش گوئی ناممکن ہے‘، کیرلم میں راہل گاندھی کا خطاب

Wait 5 sec.

لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ’’ہمارے لاکھوں بھائی اور بہنیں مشرقِ وسطیٰ میں رہتے ہیں، جو وہاں سے ہندوستان پیسے بھیجتے ہیں۔ وہ اس بات کو لے کر فکرمند ہیں کہ جنگ کی موجودہ حالت میں کیا ہوگا۔‘‘ یہ بیان انھوں نے کیرلم میں ایک عوامی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ میں کیا ہوگا، اس کی پیش گوئی کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ لیکن ایک بات اعتماد کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ ہم دنیا میں ایک نئے، غیر مستحکم اور خطرناک دور میں داخل ہو رہے ہیں۔ اس لیے ہمیں محتاط رہنا ہوگا، اپنی طاقت اور اپنے لوگوں کا تحفظ کرنا ہوگا۔‘‘We have millions of our brothers and sisters who live in the Middle East, who send remittances back from the Middle East to India. They are worried about what is going to happen in the war.In fact, it is almost impossible to predict what will happen in the war between the… pic.twitter.com/ODRDOHgSHd— Congress (@INCIndia) March 7, 2026دراصل راہل گاندھی کیرلم میں ’پتھویوگا یاترا‘ کی ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے، اور اس دوران انھوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ساتھ کیرلم کے وزیر اعلیٰ پینارائی وجین کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ وزیر اعظم مودی کو ایک خوفزدہ وزیر اعظم ٹھہراتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’نریندر مودی امریکی صدر ٹرمپ کے قبضہ میں ہیں۔ صدر ٹرمپ برسر عام ہندوستانی وزیر اعظم کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔ وہ صاف کہتے ہیں کہ وہ پی ایم مودی کے سیاسی کیریئر کو تباہ کر سکتے ہیں۔‘‘ انھوں نے آگے کہا کہ ’’جس طرح مودی کو ٹرمپ کنٹرول کرتے ہیں، اسی طرح مودی کیرالہ کے وزیر اعلیٰ کو کنٹرول کرتے ہیں۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’سی بی آئی اور ای ڈی ملک بھر میں اپوزیشن لیڈران کے خلاف تیزی سے کارروائی کرتے ہیں، لیکن کیرالہ کے وزیر اعلیٰ کو ہاتھ تک نہیں لگا سکتے۔ کیوں؟ کیونکہ وہ ایک ساتھ کام کر رہے ہیں۔‘‘In the same way that Trump controls Mr. Modi, Mr. Modi controls the Chief Minister of Kerala.The CBI and ED act swiftly against opposition leaders across the country, yet they cannot touch the Chief Minister of Kerala. Why? Because they are working together.In Kerala, it is… pic.twitter.com/SbjqlIDA7H— Congress (@INCIndia) March 7, 2026کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کیرلم کے لوگوں کی تعریف بھی کی اور کہا کہ مشکل وقت میں ہمیشہ انھوں نے ساتھ دیا۔ راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ ’’جب بی جے پی اور آر ایس ایس میری بے رحمی اور شدت کے ساتھ مسلسل مخالفت کر رہے تھے، اس وقت کیرالہ نے مجھے گلے لگایا۔ کہا جاتا ہے کہ مشکل وقت میں ہی یہ پتہ چلتا ہے کہ آپ کے حقیقی دوست کون ہیں۔ سب سے مشکل وقت میں مجھے معلوم ہوا کہ کیرلم میرا دوست ہے۔ صرف دوست ہی نہیں بلکہ میرا محافظ بھی ہے۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’کیرلم کی عوام نے مجھے بہت اپنائیت کا احساس کرایا ہے۔ اس لیے میں کیرلم کی عوام کے بہتر مستقبل کی تعمیر کے لیے وہ سب کچھ کرنے کو تیار ہوں جو وہ چاہتے ہیں۔ میں ہمیشہ کیرلم کی عوام کا سپاہی رہوں گا۔‘‘When I was being attacked mercilessly, ruthlessly by the BJP, by the RSS, Keralam embraced me. They say that you find out who your friends are in the most difficult time. In the most difficult time, I found out that Keralam is my friend. Not just my friend, but my protector… pic.twitter.com/HCoiJbyKyT— Congress (@INCIndia) March 7, 2026راہل گاندھی نے تقریب میں جمع بھیڑ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’سی پی آئی‘ کا مطلب ’کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا‘ نہیں ہے، بلکہ ’کارپوریٹ پارٹی آف انڈیا‘ ہے۔ انھوں نے پینارائی وجین کی حکومت کو کیرالہ کی تاریخ میں سب سے زیادہ کارپوریٹ نواز حکومت قرار دیا۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ یہ حکومت مزدوروں، چھوٹے کاروباریوں اور کسانوں کے مفادات کے خلاف ہے، یہ بڑے کاروباری گھرانوں کے مفادات کے حق میں کام کر رہی ہے۔Communist Party of India ❌Corporatist Party of India ✅This is the most corporatist government that Kerala has ever seen.It is against the interests of the workers, small businesses, and farmers, and it is for the interests of the big businessmen.: LoP Shri… pic.twitter.com/ubykTZCz1L— Congress (@INCIndia) March 7, 2026کیرلم کے لوگوں سے راہل گاندھی نے وعدہ کیا کہ وہ ان کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہر کوئی جانتا ہے ایل ڈی ایف حکومت نے کیرلم میں بے روزگاری کا ایک بڑا مسئلہ پیدا کر دیا ہے۔ مودی نے ہندوستان میں روزگار کے نظام کو تباہ کیا، اور سی پی آئی (ایم) نے کیرلم میں روزگار کے نظام کو برباد کر دیا۔‘‘ انھوں نے عزم ظاہر کیا کہ کانگریس حکومت بننے کے بعد کیرالہ میں روزگار کے مواقع دوبارہ پیدا کرنے کے لیے ضروری اقدام اٹھائے جائیں گے۔ ساتھ ہی چھوٹے و درمیانہ درجہ کے کاروباریوں کی حمایت کی جائے گی۔ ان کوششوں کے بعد کیرلم میں ایک بار پھر روزگار کے مواقع بحال ہو جائیں گے۔Everybody knows that the LDF government has created a massive unemployment problem in Kerala. Modi has destroyed the employment system in India, and CPI(M) has destroyed the employment system in Kerala. We are going to take full action on reigniting employment in Kerala.… pic.twitter.com/vyiVth5JK9— Congress (@INCIndia) March 7, 2026