ممتا بنرجی کا ایس آئی آر کے خلاف غیر معینہ مدت کا دھرنا، کولکاتا میں خود کریں گی احتجاج کی قیادت

Wait 5 sec.

کولکاتا: مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی ریاست میں جاری خصوصی گہری نظر ثانی (ایس آئی آر) کے خلاف جمعہ کی دوپہر سے وسطی کولکاتا کے ایسپلانیڈ ایسٹ میں غیر معینہ مدت کا دھرنا شروع کریں گی۔ اس احتجاج کی قیادت خود وزیر اعلیٰ کریں گی اور ترنمول کانگریس کے کارکنان بڑی تعداد میں اس میں شرکت کریں گے۔اطلاعات کے مطابق ترنمول کانگریس کے کارکنان اور رہنما جمعہ کی صبح سے ہی ایسپلانیڈ ایسٹ میں جمع ہونا شروع ہو جائیں گے۔ ممتا بنرجی کے دوپہر تقریباً دو بجے احتجاجی مقام پر پہنچنے اور دھرنے کے باضابطہ آغاز کی توقع ہے۔ترنمول کانگریس کے ایک سینئر رہنما کے مطابق فی الحال فیصلہ کیا گیا ہے کہ یہ دھرنا غیر معینہ مدت تک جاری رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کی بنیادی مانگ یہ ہے کہ ووٹر فہرست سے ایک بھی حقیقی ووٹر کو خارج نہ کیا جائے۔ ساتھ ہی یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ مغربی بنگال میں آئندہ اسمبلی انتخابات ایسے 63 لاکھ معاملات کو نظر انداز کر کے نہ کرائے جائیں جن پر اس وقت عدالتی سماعت جاری ہے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ کا احتجاجی مقام مغربی بنگال کے چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر سے تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ ممتا بنرجی کا یہ غیر معینہ مدت کا دھرنا ایسے وقت شروع ہو رہا ہے جب الیکشن کمیشن کی مکمل بنچ 8 مارچ کی رات کولکاتا پہنچنے والی ہے۔الیکشن کمیشن کی اس بنچ کی قیادت چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کر رہے ہیں اور آئندہ دو دنوں کے دوران ان کا پروگرام کافی مصروف بتایا جا رہا ہے۔ سیاسی حلقوں میں اس دھرنے کو اسی دورے کے تناظر میں بھی اہم مانا جا رہا ہے۔ایسپلانیڈ ایسٹ میں احتجاجی مقام پر ایک بڑا اسٹیج تیار کیا گیا ہے۔ اگرچہ ترنمول کانگریس کی قیادت نے یہ واضح نہیں کیا کہ دھرنا کتنے دنوں تک جاری رہے گا، تاہم وہاں کی تیاریوں اور اسٹیج کے سائز کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ احتجاج طویل عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔ادھر بائیں بازو کی جماعت سی پی آئی (ایم) نے بھی حال ہی میں چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر کے سامنے 24 گھنٹے کا دھرنا دیا تھا جو بدھ کی دوپہر سے شروع ہو کر جمعرات کی دوپہر کو ختم ہوا۔ اس احتجاج میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ جب تک “منطقی تضاد” کے زمرے میں شامل ووٹروں کے دستاویزات سے متعلق عدالتی کارروائی مکمل نہ ہو جائے، تب تک ریاست میں انتخابات نہ کرائے جائیں۔سی پی آئی (ایم) کے سینئر رہنما اور مغربی بنگال میں بائیں محاذ کے صدر بیمان بوس نے کہا ہے کہ ان کی جماعت 9 مارچ کو الیکشن کمیشن کی مکمل بنچ کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں بھی یہی مطالبہ پیش کرے گی۔ کانگریس نے بھی الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ عدالتی عمل مکمل ہونے کے بعد ہی ریاست میں ووٹنگ کرائی جائے۔