آسام میں فضائیہ کا سکھوئی–30 لڑاکا طیارہ گر کر تباہ، دونوں پائلٹ ہلاک

Wait 5 sec.

نئی دہلی/گوہاٹی: آسام میں ہندوستانی فضائیہ کا ایک سکھوئی–30 ایم کے آئی لڑاکا طیارہ معمول کے تربیتی مشن کے دوران گر کر تباہ ہو گیا، جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار دونوں پائلٹ جان بحق ہو گئے۔ ہندوستانی فضائیہ نے جمعہ کے روز اس افسوس ناک حادثے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دونوں افسران کو شدید زخم آئے تھے جن کی وجہ سے ان کی جان نہیں بچائی جا سکی۔فضائیہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ وہ اسکواڈرن لیڈر انوج اور فلائٹ لیفٹیننٹ پرویش دوراگکر کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ فضائیہ کے تمام اہلکار اس مشکل وقت میں دونوں افسران کے اہل خانہ کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ لڑاکا طیارہ جمعرات کو آسام کے کاربی آنگلونگ ضلع کے پہاڑی علاقے کے اوپر پرواز کر رہا تھا، جب اچانک زمینی کنٹرول سے اس کا رابطہ منقطع ہو گیا۔ اس کے بعد طیارہ ریڈار سے بھی غائب ہو گیا جس پر فوری طور پر تلاشی مہم شروع کی گئی۔دفاعی تعلقات عامہ کے افسر کے مطابق طیارہ ایک معمول کے تربیتی مشن پر تھا۔ جیسے ہی ریڈار سے اس کا رابطہ ختم ہوا، فضائیہ کی ٹیموں کو متعلقہ علاقے میں بھیجا گیا تاکہ صورت حال کی جانچ کی جا سکے اور حادثے کی اصل وجہ معلوم کی جا سکے۔ جس مقام پر طیارے کا رابطہ ٹوٹا وہ گھنے جنگلات اور دشوار گزار پہاڑی علاقوں پر مشتمل ہے، جس کی وجہ سے تلاش کا کام کچھ مشکل ہو گیا تھا۔ اگلے دن فضائیہ نے تصدیق کی کہ طیارہ گر کر تباہ ہو گیا ہے۔سکھوئی–30 ایم کے آئی ہندوستانی فضائیہ کے اہم اور جدید لڑاکا طیاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ ایک کثیر المقاصد جنگی طیارہ ہے جو فضائی دفاعی نظام میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے اور طویل فاصلے تک کارروائی کی صلاحیت رکھتا ہے۔تاہم اس طیارے سے جڑے حادثات ماضی میں بھی پیش آ چکے ہیں۔ اگست 2019 میں ایک سکھوئی–30 ایم کے آئی تربیتی مشن کے دوران آسام کے تیزپور کے قریب دھان کے کھیت میں گر گیا تھا۔ اس حادثے میں دونوں پائلٹ بروقت طیارے سے باہر نکلنے میں کامیاب رہے تھے اور بعد میں انہیں محفوظ نکال لیا گیا تھا۔اس سے قبل مئی 2015 میں بھی ایک سکھوئی–30 ایم کے آئی طیارہ تیزپور ایئر فورس بیس سے اڑان بھرنے کے فوراً بعد تقریباً 36 کلومیٹر جنوب میں گر کر تباہ ہو گیا تھا، تاہم اس واقعے میں بھی دونوں پائلٹ محفوظ بچ نکلنے میں کامیاب رہے تھے۔ موجودہ حادثے کے بعد فضائیہ نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ حادثے کی وجہ کا پتہ لگایا جا سکے۔