انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے مشہور صنعت کار انل امبانی سے منسلک کمپنیوں کے خلاف مبینہ منی لانڈرنگ اور بینک فراڈ کی تحقیقات کے ایک حصے کے طور پر حیدرآباد میں کئی مقامات پر تلاشی کے لیے چھاپے مارے۔ اس کارروائی کی وجہ سے شہر کے بڑے کارپوریٹ سیکٹرز میں دن بھر افراتفری کا ماحول رہا۔ تفتیشی ایجنسی کی ٹیمیں صبح سے ہی مختلف دفاتر میں پہنچ کر مالیاتی دستاویزات اور ڈیجیٹل ریکارڈ کی جانچ کرتی رہیں۔ذرائع کے مطابق تحقیقات بنیادی طور پر ریلائنس پاور اور اس سے منسلک کچھ کمپنیوں کے مالی لین دین سے متعلق ہیں۔ ای ڈی افسران کو شبہ ہے کہ کچھ مشتبہ مالیاتی سرگرمیاں اور بینکنگ ضوابط کی خلاف ورزیاں بعض کارپوریٹ اداروں کے ذریعے کی گئی ہیں۔ اسی وجہ سے ایجنسی نے کئی دفاتر اور متعلقہ احاطوں میں چھاپے مارے اور اہم دستاویزات، کمپیوٹر ہارڈ ڈرائیوز، لیپ ٹاپ اور دیگر ڈیجیٹل ڈیٹا ضبط کر لیا۔انل امبانی پر ای ڈی کی بڑی کارروائی، ممبئی میں 3 ہزار کروڑ سے زائد قیمت کا عالیشان بنگلہ’ ابوڈ‘ قرقحیدرآباد میں ریلائنس گروپ کے کارپوریٹ دفاتر بنیادی طورسے شہر کے بڑے کاروباری مراکز میں واقع بتائے جاتے ہیں۔ ان میں خاص طور پر بنجارہ ہلز، مادھا پور، ہائی ٹیک سٹی اور گچی باولی جیسے علاقے شامل ہیں جہاں کئی بڑی کمپنیوں کے کارپوریٹ دفاتر اور بزنس سینٹر واقع ہیں۔ تحقیقاتی ایجنسی کی سرگرمیوں کے بعد ان علاقوں میں موجود کارپوریٹ دفاتر اور ملازمین کے درمیان بحث تیز ہوگئی۔انل امبانی کی ’ریلائنس انفرا‘ کے خلاف ای ڈی کی بڑی کارروائی، ممبئی-اندور کے 6 مقامات پر مارے گئے چھاپےذرائع کے مطابق تلاشی کے دوران کئی اہم مالیاتی ریکارڈ اور دستاویزات برآمد ہوئیں جن کی اب تفصیلی جانچ کی جارہی ہے۔ ان دستاویزات کی بنیاد پر اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ آیا کمپنیوں کے ذریعے رقم کی غیر قانونی منتقلی ہوئی یا منی لانڈرنگ ہوئی۔ اگرچہ ای ڈی نے ابھی تک اس کیس کی مکمل تفصیلات کا باضابطہ طور پر انکشاف نہیں کیا ہے، لیکن ذرائع بتاتے ہیں کہ تحقیقات کا دائرہ وسیع ہوسکتا ہے۔ اگر دستاویزات میں مالی بے ضابطگیوں کے ٹھوس شواہد ملے تو آنے والے دنوں میں مزید افراد سے پوچھ گچھ ہو سکتی ہے۔حیدرآباد میں اس کارروائی نے ایک بار پھر کارپوریٹ دنیا میں شفافیت اور مالی جوابدہی کے حوالے سے بحث چھیڑ دی ہے۔ تفتیشی ادارے کا کہنا ہے کہ ضبط شدہ دستاویزات اور ڈیجیٹل ریکارڈ کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی مزید قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔