امریکی ایوان نمائندگان میں بھی ایران جنگ پر ٹرمپ کے اختیارات محدود کرنے کی قرارداد مسترد

Wait 5 sec.

واشنگٹن : صدر ٹرمپ کو ایران پر حملے جاری رکھنے کی اجازت مل گئی، ایوان نمائندگان میں بھی ایران پر حملے محدود کرنے کی قرارداد مسترد کردی گئی۔تفصیلات کے مطابق سینیٹ کے بعد امریکی ایوان نمائندگان نے بھی ایران پر مزید فوجی حملوں کو محدود کرنےکی قرارداد مسترد کردی۔قرارداد کا مقصد صدر کی ایران کے خلاف فضائی کارروائی روکنا اور یہ شرط لگانا تھا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جنگی کارروائی کی منظوری کانگریس سے لی جائے۔قرارداد کے خلاف دوسوانیس اورحق میں دوسوبارہ ووٹ پڑے، .ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو ایوان میں معمولی برتری حاصل ہے۔ ووٹنگ میں دو ریپبلکن ارکان نے قرارداد کے حق میں جبکہ چار ڈیموکریٹس نے اس کی مخالفت میں ووٹ دیا۔قرارداد کے حامی ارکان کا کہنا تھا کہ آئین کے مطابق جنگ کی منظوری دینا کانگریس کی ذمہ داری ہے اور اس اقدام کا مقصد وہ اختیار دوبارہ حاصل کرنا تھا۔ارکان کا مزید کہنا تھا کہ صدر کو کانگریس کے سامنے آ کر یہ بتانا چاہیے کہ امریکہ ایران کے خلاف کیوں لڑ رہا ہے اور یہ جنگ کیسے ختم ہوگی۔دوسری جانب مخالف ارکان نے ڈیموکریٹس پر الزام لگایا کہ وہ صرف صدر ٹرمپ کی مخالفت کی وجہ سے یہ معاملہ ووٹنگ کے لیے لا رہے ہیں۔امریکہ اور اسرائیل نے ہفتے کے روز ایران پر حملے شروع کیے تھے، جس کے بعد سے جاری لڑائی میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں کم از کم چھ امریکی فوجی بھی شامل ہیں۔ماہرین کے مطابق اگر یہ قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو بھی جنگ فوری طور پر نہیں رکتی، کیونکہ اس کے نافذ ہونے کے لیے سینیٹ کی منظوری اور صدر کے ممکنہ ویٹو کو ختم کرنے کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہوتی۔1973 کے وار پاورز ایکٹ کے تحت صدر بغیر کانگریس کی منظوری کے زیادہ سے زیادہ 60 دن تک فوجی کارروائی جاری رکھ سکتے ہیں۔ اس لیے ٹرمپ انتظامیہ کو اپریل کے آخر تک کانگریس سے باقاعدہ منظوری حاصل کرنا ہوگی۔