واشنگٹن (6 مارچ 2026): امریکا کے سابق صدر بارک اوباما مڈ ٹرم الیکشن میں ٹرمپ کو شکست اور ڈیموکریٹ کی جیت کے لیے متحرک ہو گئے ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکا میں رواں برس نومبر میں مڈٹرم الیکشن ہو رہے ہیں۔ ان الیکشن میں سابق صدر بارک اوباما ڈیموکریٹ کی جیت کے لیے متحرک ہو گئے ہیں۔اوباما نے اس حوالے سے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی جمہوریت کی بنیاد آزادانہ اور منصفانہ الیکشن پر حملے ہو رہے ہیں اور کئی ری پبلکن ریاستوں نے مڈٹرم الیکشن کے لیے حلقوں کو تبدیل کیا ہے۔دوسری جانب موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ری پبلکنز مڈٹرم الیکشن جیت جائیں گے۔واضح رہے کہ چار سالہ صدارتی انتخابات کے دو سال بعد امریکی شہری دوبارہ ووٹ ڈالتے ہیں، جس کے لیے مڈٹرم الیکشن کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔تاہم یہاں مڈٹرم سے مراد یہ نہیں ہے کہ یہ پارلیمنٹ کی مدت مکمل ہونے سے پہلے ہورہے ہیں ، بلکہ امریکا میں مڈٹرم یا وسط مدتی انتخابات، ان انتخابات کو کہا جاتا ہے جو اپنے عہدے پر موجود صدر کی چار سالہ عہدے کی مدت کے وسط میں ہوتے ہیں۔یہاں پچھلے صدارتی انتخابات 2024 میں ہوئے تھے، جن میں ڈونلڈ ٹرمپ چار سال کی ایک مدت کے لیے صدر چنے گئے تھے۔ جب کہ اگلے صدارتی الیکشن 2028 میں ہوں گے۔چونکہ نومبر کے انتخابات موجودہ صدر کے اپنے عہدے پر فائز ہونے کے دو سال بعد ہو رہے ہیں، اس لیے انہیں مڈٹرم کہا جا رہا ہے۔گو کہ ان انتخابات سے اس وائٹ ہاؤس میں موجود ٹرمپ کوئی خطرہ نہیں مگر اس کے نتائج صدر اور ان کی انتظامیہ کے ایجنڈے پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، کبھی کم اور کبھی کبھار بہت زیادہ۔ٹرمپ نے تیسری مدتِ صدارت کے سلسلے میں اپنا ارادہ واضح کر دیا