اتل ابیب : ایرانی پاسداران انقلاب نے کلسٹر بموں سے لیس خیبر شکن میزائل سے تل ابیب پر حملہ کردیا، جس سے مختلف مقامات پر آگ لگ گئی۔تفصیلات کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے ساتویں روز ایران نے اسرائیل کے خلاف اپنی عسکری کارروائیوں میں انتہائی شدت پیدا کر دی۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے پہلی بار کلسٹر بموں سے لیس ‘خیبر شکن’ میزائلوں کے ذریعے تل ابیب کو نشانہ بنایا، جس کے بعد پورا شہر زوردار دھماکوں کی آوازوں سے گونج اٹھا۔ایران نے تل ابیب سمیت اسرائیل کے مختلف شہروں پر درجنوں ڈرونز اور میزائل داغے، حملوں کے نتیجے میں اسرائیل کے مختلف مقامات پر لگی آگ کے بلند شعلے دور دور سے دیکھے گئے۔اردن کی فضائی حدود میں بھی شہریوں نے بڑی تعداد میں ایرانی میزائلوں کو گزرتے ہوئے دیکھا، امریکی نشریاتی ادارے سی این این (CNN) نے اپنی لائیو کوریج کے دوران ان میزائل حملوں کے مناظر براہِ راست دکھائے۔ایرانی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس جنگ کے دوران اب تک اسرائیل پر مجموعی طور پر 5 ہزار (یا بعض رپورٹس کے مطابق اب تک کے مرحلے میں 500 سے زائد) بیلسٹک اور کروز میزائل داغے جا چکے ہیں، یہ حملے دشمن کی جارحیت کا منہ توڑ جواب ہیں۔عسکری ماہرین کے مطابق ‘خیبر شکن’ میزائل کا کلسٹر بموں سے لیس ہونا اس بات کی علامت ہے کہ ایران اب وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار استعمال کر رہا ہے، جس سے خطے میں جنگ کے مزید پھیلنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔