دوحہ (07 مارچ 2026): ایران کی جانب سے جاری حملوں کے دوران قطر نے اپنی فضائی حدود جزوی طور پر دوبارہ کھول دیں۔قطر سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق ایک ہفتہ پہلے شروع ہونے والی جنگ کے بعد پہلی مرتبہ محدود پروازیں دوبارہ شروع کی جا رہی ہیں۔قطر کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے جمعہ کی شام محدود پیمانے پر فضائی حدود کھولنے کا اعلان کیا، اتھارٹی کے مطابق پروازیں قطری مسلح افواج کے ساتھ رابطے میں ’’مخصوص متبادل فضائی راستوں‘‘ کے ذریعے محدود آپریشنل صلاحیت کے ساتھ چلائی جائیں گی۔اتھارٹی نے وضاحت کی کہ فضائی حدود جزوی طور پر کھولی جا رہی ہیں، اس میں صرف انخلا اور ضروری سامان لے جانے والی کارگو پروازوں کو اجازت دی جائے گی، آئندہ دنوں میں مزید پروازوں کا انحصار سیکیورٹی صورت حال کے جائزے پر ہوگا۔Qatar Airways to Operate Limited Relief Corridor from Doha.Qatar Airways scheduled flight operations remain temporarily suspended due to the closure of Qatari airspace. Qatar Airways will resume operations once the Qatar Civil Aviation Authority announces the safe full…— Qatar Airways (@qatarairways) March 6, 2026 الجزیرہ کے مطابق یہ اقدام خلیج کے ایک اہم ترین فضائی مرکز کے ساتھ ہوائی روابط بحال کرنے کی جانب ایک محتاط پہلا قدم سمجھا جا رہا ہے، تاہم حالات اب بھی معمول پر نہیں آئے۔ دوحہ آنے اور جانے والی باقاعدہ کمرشل پروازیں فی الحال معطل رہیں گی جب تک اس بارے میں مزید سرکاری اعلان نہیں کیا جاتا۔جن مسافروں کی بکنگ پہلے سے تصدیق شدہ ہے انھیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایئرپورٹ جانے سے پہلے اپنی متعلقہ ایئرلائنز سے تازہ ترین معلومات حاصل کریں۔ ہفتہ کی صبح کے اوائل میں قطر ایئرویز نے اعلان کیا کہ وہ 7 مارچ کو وطن واپسی کی پروازیں چلانے کا ارادہ رکھتی ہے جو حمد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے روانہ ہو کر درج ذیل شہروں کے ایئرپورٹس تک جائیں گی: لندن، پیرس، میڈرڈ، روم اور فرینکفرٹ۔ایئرلائن نے مزید بتایا کہ ترجیح ان مسافروں کو دی جائے گی جو پھنس گئے ہیں اور جن کے ساتھ خاندان موجود ہیں، عمر رسیدہ مسافر، اور وہ افراد جنھیں فوری طبی یا انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سفر کی ضرورت ہے۔قطر نے ابتدائی طور پر 28 فروری کو اپنی فضائی حدود بند کر دی تھی۔ اس فیصلے کی وجہ خطے میں حالیہ پیش رفت کے پیش نظر احتیاطی اقدامات اور تمام پروازوں کے لیے اعلیٰ ترین سطح کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانا بتائی گئی تھی۔7 روز سے جاری اس تنازع کے دوران خلیجی ملک قطر پر بارہا ایرانی میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے، جس کے باعث ملک کو اپنی فضائیہ کو فعال کرنا پڑا اور اپنے علاقے کے دفاع کے لیے میزائل روکنے والے نظام استعمال کرنا پڑے۔ قطر کی وزارتِ دفاع نے تصدیق کی کہ جمعرات کے روز ایران سے داغے گئے 14 بیلسٹک میزائل اور چار ڈرون کے ذریعے قطر کو نشانہ بنایا گیا۔خیال رہے کہ اس تنازع کے آغاز کے بعد سے دوحہ کے حمد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر دو ہزار سے زائد پروازیں منسوخ کی جا چکی ہیں۔