واشنگٹن( 7 مارچ 2026): امریکا میں بدنام زمانہ سرمایہ کار جیفری ایپسٹین سے متعلق جاری تحقیقات کے سلسلے میں امریکی محکمہ انصاف نے ایف بی آئی کے مزید دستاویزات جاری کر دیں۔امریکی وزارتِ انصاف نے جمعرات کو 2019 کی ایف بی آئی انٹرویو رپورٹس جاری کی ہیں جو ایک ایسی خاتون سے متعلق ہیں جس نے غیر مصدقہ الزامات لگائے تھے کہ 1980 کی دہائی میں، جب وہ نابالغ تھیں، ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں وزارتِ انصاف نے کہا کہ ابتدا میں جیفری ایپسٹین سے متعلق لاکھوں صفحات کی دستاویزات کو جنوری میں ہونے والی اشاعت کے وقت روک لی گئی تھیں، کیونکہ انہیں غلطی سے ڈپلیکیٹ قرار دے کر الگ رکھا گیا تھا۔وزارتِ انصاف کے مطابق تفصیلی جائزے سے معلوم ہوا کہ 15 دستاویزات کو غلطی سے ‘ڈوپلیکیٹ’ قرار دے کر روک دیا گیا تھا۔ بیان میں اس غلطی کی وجہ انسانی خطا کے علاوہ مزید واضح نہیں کی گئی۔وزارتِ انصاف نے ایپسٹین سے متعلق مزید سینکڑوں صفحات کے ریکارڈز بھی پوسٹ کیے ہیں، جن میں فلوریڈا اور نیویارک میں ایپسٹین کے خلاف تحقیقات کے سلسلے میں گواہوں کے انٹرویوز کے خلاصے شامل ہیں۔جمعرات کو جاری ہونے والی ایف بی آئی 302 رپورٹس کے مطابق، ایف بی آئی نے جولائی اور اکتوبر 2019 کے درمیان مذکورہ خاتون کے چار انٹرویو کیے۔ ان انٹرویوز میں خاتون (جس کی شناخت پوشیدہ رکھی گئی ہے) نے ایپسٹین پر زیادتی کے الزامات لگائے۔وفاقی تفتیش کاروں کے ساتھ اپنے دوسرے انٹرویو میں خاتون نے دعویٰ کیا کہ ایپسٹین اسے نیویارک یا نیو جرسی لے گیا تھا جہاں اس کی ملاقات ٹرمپ سے کرائی گئی، اس وقت خاتون کی عمر 13 سے 15 سال کے درمیان تھی۔ رپورٹ کے مطابق، خاتون نے دعویٰ کیا کہ اس دورے کے دوران ٹرمپ نے اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔تاہم اکتوبر 2019 کے چوتھے انٹرویو میں خاتون نے ٹرمپ کے ساتھ مبینہ واقعے کی مزید تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کر دیا، خاتون کے بیانات کے مطابق یہ واقعہ 1980 کی دہائی کے اوائل یا وسط میں پیش آیا، جبکہ ریکارڈز کے مطابق اس دور میں ایپسٹین اور ٹرمپ کے درمیان رابطے کے شواہد نہیں ملتے۔وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ‘یہ ایک ذہنی طور پر پریشان خاتون کے بے بنیاد الزامات ہیں جن کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ جو بائیڈن کا محکمہ انصاف چار سال سے ان الزامات سے واقف تھا لیکن انہوں نے کوئی کارروائی نہیں کی کیونکہ وہ جانتے تھے کہ صدر ٹرمپ نے کچھ غلط نہیں کیا۔دوسری جانب، محکمہ انصاف نے جنوری میں جاری ایک بیان میں واضح کیا تھا کہ ان فائلوں میں ٹرمپ کے خلاف کچھ ایسے سنسنی خیز اور جھوٹے دعوے شامل ہیں جو 2020 کے انتخابات سے عین قبل ایف بی آئی کو جمع کرائے گئے تھے اور ان میں صداقت کا کوئی شائبہ نہیں ہے۔