ایران اور اسرائیل-امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خلیجی ممالک میں مقیم مغربی ممالک کے شہریوں نے دبئی سے لے کر قطر اور سعودی عرب چھوڑنے میں ہی اپنی عافیت سمجھی۔ برطانیہ سے لے کر امریکہ تک کے شہری خلیجی ممالک کو چھوڑ کر اپنے وطن واپس لوٹ گئے ہیں، لیکن وہاں ملازمت کر رہے ہندوستانی شہریوں کی ایک بڑی تعداد اب تک وہیں پر رکی ہوئی ہے۔ رکے ہوئے ہندوستانی شہریوں میں سے اکثریت کو اپنی جان سے زیادہ ملازمت کی فکر ستا رہی ہے، جس کی وجہ سے وہ جنگ کے سائے میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔ اسی وجہ سے خلیجی ممالک میں مقیم ہندوستانی مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد عید منانے کے لیے اپنے گھر نہیں آئی اور انہیں مجبوراً وہیں عید منانی پڑی۔مشرقِ وسطیٰ کی جنگ، عالمی توانائی کی سیاست اور ہندوستانی مفادات پر قمر آغا کی تفصیلی رائےمشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کو ایک ماہ سے زیادہ کا وقت گزر گیا ہے، لیکن جنگ کے خاتمے کا کوئی آثار نظر نہیں آ رہا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری اس جنگ میں ایران کے نشانے پر خلیجی ممالک ہیں۔ ایسے میں ان ممالک میں رہ رہے ہندوستانی شہری روزانہ آسمان سے ڈرون اور میزائلوں کو گزرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ اس کے باوجود جان بچا کر ملازت چھوڑ کر وطن واپس لوٹنے کے بجائے وہیں پر کام کرنے کے لیے مجبور ہیں۔واضح رہے کہ خلیجی ممالک میں تقریباً ایک کروڑ ہندوستانی ملازمت کرتے ہیں، جن میں سے تقریباً 4 لاکھ لوگ ہی ہندوستان لوٹے ہیں، جس میں کچھ سیاح اور طلبہ شامل تھے۔ خلیجی ممالک میں امریکی ایئربیس کی موجودگی کے سبب ایران مسلسل دبئی، سعودی عرب، قطر، کویت اور بحرین وغیرہ کو ہدف بنا رہے ہیں۔ ایران اب تک امریکی ایئربیس کو نشانہ بنا رہا تھا، لیکن اس کے نشانے پر اب دوسری چیزیں بھی ہیں۔ ٹینکر سے لے کر ہوٹل تک کو نشانہ بنا رہا ہے اور ایران نے خلیجی ممالک کے رہائشی علاقوں پر حملہ کرنے کی بھی دھمکی دی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل اگر ایران پر حملے تیز کرتے ہیں تو پھر جواب میں جنگ کے حالات خلیج میں مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔ سعودی سے لے کر قطر اور دبئی تک میں زمینی سطح پر جنگ چھڑ سکتی ہے۔ ایسے میں خلیجی ممالک میں کام کرنے والے ہندوستانیوں میں بھی گھبراہٹ ہے، وہ واپس وطن لوٹنا چاہتے ہیں۔ مہنگے فلائٹ ٹکٹ لینے میں انہیں کسی طرح کی کوئی دقت نہیں ہے، لیکن ان کی سب سے بڑی پریشانی روزگار کی ہے۔ایران-اسرائیل کشیدگی: ہندوستان میں پھنسے غیر ملکی شہریوں کو راحت، ویزا میں 30 دن کی توسیع’آج تک‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ خلیجی ممالک میں کام کرنے والے کئی ہندوستانیوں نے بتایا کہ انہیں اپنی جان کی حفاظت سے زیادہ ملازمت کے تحفظ کی فکر ہے۔ ایسے میں انہیں یہ لگتا ہے کہ اگر ابھی واپس لوٹے تو شاید دوبارہ اس جگہ پر آنے کا موقع نہ مل سکے۔ اس کے علاوہ انہیں دوسری فکر اس بات کی ہے کہ ہندوستان جا کر وہ اتنے پیسے نہیں کما سکتے ہیں، جتنا انہیں خلیجی ممالک میں مل رہا ہے۔ اسی سے ہندوستان میں ان کے خاندان کی ضروریات پوری ہو رہی ہیں۔سعوی عرب کے ریاض شہر میں ریٹیل سیکٹر میں ملازمت کر رہے فراز وامق بتاتے ہیں کہ ’’ہم ہی نہیں بلکہ ہندوستان کے لوگ بڑی تعداد میں اچھی ملازمت اور تنخواہ کے لیے ملک چھوڑ کر ان ممالک میں آئے ہوئے ہیں۔ ہم واپس ہندوستان آنا تو چاہتے ہیں، لیکن اگر جنگ طویل ہو گئی تو پھر دوبارہ سعودی عرب واپسں آنے کا موقع نہیں مل سکے گا۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ ’’ہم 3 سال قبل بھی سعودی سے مستقل طور پر ہندوستان لوٹ آئے تھے کہ اہل خانہ کے ساتھ رہیں گے اور وہیں ملازمت کریں گے، لیکن وہاں پر سعودی جیسی نہ تو تنخواہ ملی اور نہ ہی مواقع۔ اس لیے دوبارہ سعودی آئے ہیں اور اب جنگ کی وجہ سے حالات بگڑ رہے ہیں، لیکن ہم فی الحال لوٹنا نہیں چاہتے ہیں، کیونکہ ہندوستان میں ملازمت کے لیے بہت زیادہ جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔‘‘عرب ممالک میں جنگ کا خوف، لاکھوں کی ملازمت چھوڑ واپس ہندوستان لوٹ رہے لوگ!فراز وامق کی طرح سعودی کے جدہ میں آٹو سیکٹر میں انجنیئر کے عہدہ پر ملازمت کر رہے محمد احمد کہتے ہیں کہ سعودی آئے ہوئے 2 سال ہو گئے ہیں اب ان کی چھٹی پر جانے کا وقت ہے، لیکن ملازمت کا خطرہ ستا رہا ہے۔ ان کا یہ ماننا ہے کہ اگر ہندوستان گئے اور یہاں پر ایران سے کشیدگی طویل ہو گئی تو ملازمت خطرے میں پڑ سکتی ہے، کیونکہ یہاں پر معاشی کساد بازاری کے آثار نظر آنے لگے ہیں۔ اس لیے گھر کے لوگوں کی بہت یاد آتی ہے، لیکن ملازمت کی خاطر ہم نے گھر جانے کا منصوبہ فی الحال ملتوی کر دیا ہے۔محمد احمد مزید کہتے ہیں کہ جنگ کے باعث گھر کے لوگ بہت پریشان ہیں، روزانہ فون کر کے واپس لوٹنے کی بات پر زور دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ واپس آ جاؤ، یہاں پر کسی نہ کسی طرح گھر چل جائے گا۔ اہلیہ اور بچے بھی کہتے ہیں کہ زندگی سے بڑھ کر ملازمت نہیں ہے، اب بہت ہو گیا واپس لوٹ آئیں۔ ہم انہیں کیسے سمجھائیں کہ ہندوستان لوٹنے پر کیا کام کریں گے؟ اور کیسے وہ اپنی تعلیم جاری رکھیں گے؟ گھر والوں کی فکر جائز ہے، لیکن زمینی حقیقت ہم سمجھ رہے ہیں۔ جنگ کا اثر یہیں پر نہیں بلکہ آنے والے وقت میں ہندوستان پر بھی پڑے گا۔دبئی کے ایک بینک میں نوکری کر رہے سید اختر حسین کہتے ہیں کہ ہر 6 ماہ پر 15 روز کی چھٹی لے کر ہندوستان آتے تھے، لیکن ایران کے ساتھ جاری جنگ کے باعث ہندوستان نہیں جا پا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فلائٹ کا مہنگا ٹکٹ لے سکتے ہیں، اس کی دقت نہیں ہے لیکن جنگ کی وجہ سے دبئی میں بھی ملازمت جانے کا خطرہ منڈلانے لگا ہے۔ واضح رہے کہ ایران نے جس طرح سے سعودی کو ہدف بنایا ہے، اس کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کار اپنا پیسہ نکال کر دنیا کے دوسرے ممالک میں لگا رہے ہیں۔ اس صورتحال نے خلیجی ممالک میں کام کرنے والوں ہندوستانیوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ گھر جانے پر کہیں ان کی ملازمت نہ چلی جائے۔دبئی میں ایک ٹیلی کام کمپنی میں کام کرنے والے لکھنؤ کے راشد علی کہتے ہیں کہ ہندوستان میں وہ ایک بینک میں ملازمت کرتے تھے، لیکن وہاں انہیں صرف 40 سے 50 ہزار روپے تنخواہ ملتی تھی۔ اب دبئی میں ان کی تنخواہ ہندوستانی روپوں کے حساب سے 2 لاکھ ہیں، کیا اتنی تنخواہ کسی ہندوستانی بینک میں مل پائے گی؟ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’میں اپنے گھر کا واحد کمانے والا ہوں جس پر پورے خاندان کی کفالت کی ذمہ داری ہے۔ اگر جنگ کی وجہ سے میں ہندوستان لوٹتا ہوں، تو کیا مجھے اس تنخواہ پر وہاں نوکری مل سکے گی؟ اتنا ہی نہیں ہندوستان میں نوکری کے لیے سخت جدوجہد کرنی پڑے گی کیونکہ معاشی کساد بازاری کا خطرہ بھی منڈلا رہا ہے۔ اسی لیے ہم جنگ کے حالات میں بھی یہاں کام کرنے پر مجبور ہیں، اس کے سوا میرے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔لکھنؤ کے رہنے والے محمد آصف طویل عرصے سے دبئی میں ملازمت کرتے ہیں۔ وہ گھر والوں کے ساتھ عید منانے کے لیے مہنگا ٹکٹ لے کر دبئی سے عمان کے راستے لکھنؤ آئے تھے، لیکن اب ان کی چھٹیاں ختم ہو رہی ہیں۔ آصف کو جمعرات کو دوبارہ ڈیوٹی جوائن کرنی ہے، جس کے لیے وہ ایک بار پھر مہنگا ایئر ٹکٹ لے کر بدھ کو دبئی روانہ ہو رہے ہیں۔ گھر والے بہت فکر مند ہیں اور انہیں جانے سے منع کر رہے ہیں، لیکن وہ ملازمت کی وجہ سے جانے کے لیے مجبور ہیں۔ آصف کہتے ہیں کہ اگر ہم گھر والوں کی بات مان کر ہندوستان میں رک جاتے ہیں اور دبئی کی نوکری چلی جاتی ہے، تو پھر گھر اور خاندان کے اخراجات کیسے پورے ہوں گے؟ یہی وجہ ہے کہ چاہ کر بھی نہیں رک پا رہے ہیں اور جنگ کے سائے میں ملازمت کرنے کے لیے دوبارہ دبئی جا رہے ہیں۔ جنگ کے ان حالات میں اپنی نوکری بچائے رکھنا ہمارے لیے ضروری ہو گیا ہے۔ اسی طرح غازی آباد کے رہنے والے عادل، جو قطر کے ایک سرکاری اسپتال میں کام کرتے ہیں، وہ بھی ہندوستان لوٹنا چاہتے ہیں لیکن ملازمت ختم ہونے کے ڈر سے وہیں رہنے پر مجبور ہیں۔دبئی کے ایک ہوٹل میں کام کرنے والے رمیش کمار کہتے ہیں کہ ایران کے ساتھ جنگ کی وجہ سے بحرین سمیت خلیجی ممالک میں ملازمتوں کا خطرہ تیزی سے بڑھا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دبئی کے ہوٹلوں میں کام کرنے والے لوگوں کی بڑی تعداد میں ملازمت چلی گئی ہے، کیونکہ جنگ کی وجہ سے لوگ آ نہیں رہے ہیں۔ یہاں صورتحال کورونا جیسی ہو گئی ہے اور کاروبار پوری طرح ٹھپ ہے۔ اس کی سب سے بڑی مار ہوٹل سیکٹر پر پڑی ہے، ماہ رمضان میں ایک ہوٹل میں کام کرنے والے ملازمین کو بغیر تنخواہ دیے ہوئے چھٹی کر دی گئی۔ ریسٹورنٹ سیکٹر کی حالت بھی خراب ہو رہی ہے، کیونکہ لوگ باہر گھومنے اور کھانے-پینے کے لیے نہیں نکل رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خلیج میں رہنے والے ہندوستانی اپنی ملازمت بچانے کی خاطر گھر نہیں جا رہے ہیں۔