ملک میں یکم اپریل سے ایوی ایشن ٹربائن فیول (اے ٹی ایف) قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ہوائی سفر مزید مہنگا ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اگرچہ حکومت نے گھریلو ایئرلائنز کے لیے اس اضافے کو محدود رکھنے کا دعویٰ کیا ہے، مگر اس کے باوجود کرایوں پر دباؤ واضح طور پر برقرار ہے اور مسافروں کو کسی بڑی راحت کے آثار نظر نہیں آ رہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دہلی میں فیول کی قیمت بڑھ کر 14927 روپے فی کلو لیٹر ہو گئی ہے، جبکہ کولکاتا، ممبئی اور چنئی میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر یہ اضافہ تقریباً آٹھ سے دس فیصد ماہانہ بنیاد پر سامنے آیا ہے، جو گزشتہ چند مہینوں سے جاری بڑھتے ہوئے رجحان کو مزید تقویت دیتا ہے۔ابتدا میں اس وقت صورت حال الجھن کا شکار ہو گئی جب ایندھن کی قیمتوں میں 115 فیصد اضافے کی خبریں سامنے آئیں۔ بعد ازاں وضاحت کی گئی کہ یہ شرح صرف نان شیڈیولڈ آپریٹرز اور چارٹر سروسز پر لاگو ہوتی ہے، جبکہ باقاعدہ گھریلو پروازوں کے لیے اضافہ مرحلہ وار اور محدود رکھا گیا ہے۔حکومت کا موقف ہے کہ عالمی سطح پر توانائی بحران، خاص طور پر مغربی ایشیا کی کشیدگی اور اہم بحری راستوں میں رکاوٹوں کے باعث فیول کی قیمتوں میں شدید اضافہ متوقع تھا۔ ایسے میں مکمل اضافہ منتقل کرنے کے بجائے جزوی بوجھ ایئرلائنز اور دیگر آپریٹرز کے درمیان تقسیم کیا گیا تاکہ عام مسافروں پر فوری اور شدید اثر نہ پڑے۔تاہم ماہرین کے مطابق ایوی ایشن فیول ایئرلائنز کے کل اخراجات کا بڑا حصہ ہوتا ہے، اس لیے معمولی اضافہ بھی کمپنیوں کے منافع کو متاثر کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایئرلائنز کرایوں میں اضافہ یا اضافی سرچارج کے ذریعے اس بوجھ کو مسافروں تک منتقل کرنے پر مجبور ہو سکتی ہیں۔دوسری جانب حکومت اس دباؤ کو کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات پر غور کر رہی ہے، جن میں ریاستی سطح پر ٹیکس میں کمی اور آئل کمپنیوں کے منافع کے مارجن کو محدود کرنا شامل ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں فی الحال ایندھن کا ذخیرہ کافی ہے اور سپلائی میں کسی فوری رکاوٹ کا اندیشہ نہیں، تاہم عالمی منڈی کی غیر یقینی صورتحال مستقبل میں مزید چیلنجز پیدا کر سکتی ہے۔