نیویارک (31 مارچ 2026): بلوم برگ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران یمن کے حوثی گروپ پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کے خلاف نئی مہم شروع کرے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔یورپی حکام کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران حوثیوں کو ایک بار پھر بحیرہ احمر میں جہازوں کی نقل و حرکت کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کر رہا ہے۔ حوثیوں کو نئی کارروائیوں کے لیے تیار کرنا امریکی اشتعال کا جواب ہو سکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق یمن میں حوثی قیادت اسرائیل پر حملوں کے بعد مزید جارحانہ حکمت عملی پر غور کر رہی ہے، جس میں بحری راستوں کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے۔ اس سلسلے میں مختلف آپشنز زیرِ غور ہیں تاکہ خطے میں دباؤ بڑھایا جا سکے۔اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیںبلوم برگ کے مطابق بحیرہ احمر، جو عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم سمندری راستہ ہے، ایک بار پھر خطرے کی زد میں آ سکتا ہے۔ اگر حوثیوں کی جانب سے نئی مہم شروع کی گئی تو عالمی شپنگ، توانائی کی ترسیل اور علاقائی سلامتی پر اس کے سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مغربی حکام اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیوں کہ اس سے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر سیکیورٹی خدشات کو جنم دے سکتے ہیں۔