ایران جنگ کی وجہ سے امریکا کی توجہ یوکرین سے ہٹ رہی ہے، زیلنسکی تشویش میں مبتلا

Wait 5 sec.

کیف (31 مارچ 2026): یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے خبردار کیا ہے کہ ایران میں جاری تنازع کے باعث امریکا کی توجہ یوکرین سے ہٹ رہی ہے، جس سے جنگ کے محاذ پر یوکرین کو مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوس کو دیے گئے انٹرویو میں زیلنسکی نے کہا کہ اگر واشنگٹن کی توجہ مشرقِ وسطیٰ کی جانب منتقل ہوتی رہی تو یوکرین کے لیے ہتھیاروں اور دفاعی وسائل کی کمی پیدا ہو سکتی ہے۔یوکرینی صدر کا کہنا تھا کہ ایران میں طویل جنگ روس کے لیے فائدہ مند ثابت ہو رہی ہے، خاص طور پر اس کی تیل پر انحصار کرنے والی معیشت کو تقویت مل رہی ہے۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ روس نہ صرف ایران کی حمایت کر رہا ہے بلکہ اسے براہ راست سیٹلائٹ تصاویر اور عملی جنگی تجربات بھی فراہم کر رہا ہے۔زیلنسکی کے مطابق روس ایران کے ساتھ وہی طرزِ عمل اختیار کر رہا ہے جو اس نے یوکرین میں اپنایا تھا، اور ممکنہ طور پر امریکی اور اتحادی فوجی اڈوں پر حملوں سے متعلق بھی آگاہی فراہم کی جا رہی ہے۔اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیںانھوں نے بتایا کہ یوکرین نے مشرقِ وسطیٰ کے رہنماؤں کو اس حوالے سے اہم معلومات فراہم کر دی ہیں تاکہ خطے میں کشیدگی کے ممکنہ اثرات سے نمٹا جا سکے۔ صدر زیلنسکی نے زور دیا کہ ایران کے تنازع کا حل جلد از جلد سفارتی طریقہ کار کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔انھوں نے مزید خبردار کیا کہ اگر امریکا کی توجہ مشرقِ وسطیٰ پر مرکوز رہی اور روس پر عائد پابندیوں میں نرمی آئی تو یہ صورت حال یوکرین کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔