ٹرمپ نے ایران میں ’’رجیم چینج‘‘ کی تکمیل کی خبر دے دی، ’’نئی رجیم‘‘ قابل قبول قرار

Wait 5 sec.

واشنگٹن (01 اپریل 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں ’’رجیم چینج‘‘ کی تکمیل کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’نئی رجیم‘‘ امریکا کے لیے قابل قبول ہے۔اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے منگل کو یہ بھی کہا کہ امریکا ایران کے خلاف اپنی فوجی مہم 2 سے 3 ہفتوں کے اندر ختم کر سکتا ہے، ’’ہم بہت جلد نکل جائیں گے، دو ہفتوں میں، شاید دو یا تین ہفتوں میں۔‘‘روئٹرز کے مطابق یہ بیان اب تک کا ٹرمپ کا سب سے واضح اشارہ ہے کہ وہ ایک ماہ سے جاری جنگ کو جلد ختم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جس نے مشرقِ وسطیٰ کی صورت حال بدل دی ہے، عالمی توانائی منڈیوں کو متاثر کیا ہے۔’’پتھر کے زمانے میں‘‘ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کو جنگ ختم کرنے کے لیے امریکا کے ساتھ کوئی معاہدہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا جنگ کے خاتمے کے لیے کامیاب سفارت کاری ضروری ہے، تو انھوں نے کہا ’’نہیں، ایران کو معاہدہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ انھیں میرے ساتھ کوئی ڈیل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیںٹرمپ نے کہا ہم نے ان کے بڑے پلوں کو نشانہ بنایا ہے اور اگر ایران مذاکرات کی میز پر آئے تو اچھا ہوگا، تاہم اب اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیوں کہ ہم نے انھیں 15 سے 20 سال پیچھے دھکیل دیا ہے کہ وہ اپنے آپ کو دوبارہ تعمیر کر سکیں، جب ہم محسوس کریں گے ایران پتھر کے زمانے میں چلا گیا ہے تو ہم چلے جائیں گے۔’’نئی رجیم‘‘امریکی صدر نے کہا ایران میں ’’رجیم چینج‘‘ مکمل ہو چکی ہے، وہاں نئی رجیم ہے جو قابل قبول ہے، ایران میں بہت سے لوگوں سے باتیں ہو رہی ہیں، نئی رجیم نے پیغام دیا کہ وہ میری عزت کرتے ہیں، نئی رجیم گزشتہ رجیم سے کافی بہترہے۔انھوں نے کہا امریکی انتظامیہ اب ایران کے معقول رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے، جن میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف بھی شامل ہیں، جو سخت گیر اور پاسداران انقلاب سے قریب سمجھے جاتے ہیں، لیکن اس نے رویہ بہتر کیا ہے، ہم جانتے ہیں قالیباف کہاں رہتے ہیں۔انھوں نے کہا آج بڑی تعداد میں بحری جہاز ایران کے اردگرد سمندر میں تیر رہے ہیں، ہم ان سے ابھی مذاکرات کر رہے ہیں، ہم نے وہاں رجیم تبدیل کر دی ہے لیکن رجیم کی تبدیلی میرا ہدف نہیں تھا، میرا واحد ہدف ہے ان کے پاس نیوکلیئر صلاحیت نہیں ہونی چاہیے اور وہ ہدف ہم نے حاصل کر لیا ہے کہ ان کے پاس اب نیوکلیئر ہتھیار تیار کرنے کی صلاحیت نہیں رہی۔میں تو یہ کہوں گا کہ ایران کی ایٹمی تنصیبات کو دو سے تین ہفتے میں مکمل طور پر تباہ کر دیں گے اور جیسا آپ جانتے ہیں ہم وہاں سے نکل جائیں گے، اور میں سمجھتا ہوں جب ہم واپس جائیں گے تو سب کچھ صاف ہو چکا ہوگا۔