سعودی عرب میں نئے قوانین کا اعلان، خلاف ورزیوں پر بھاری جرمانہ اور سزائیں

Wait 5 sec.

ریاض (2 اپریل 2026): سعودی عرب میں نئے قوانین کے تحت ممنوعہ ممالک کا سفر کرنے والے شہریوں پر جرمانہ اور سخت سزائیں مقرر کر دی گئیں۔سعودی گزٹ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے نئے قوانین کی منظوری دی جن میں کہا گیا کہ ممنوعہ قرار دیے گئے ملک کا سفر کرنے پر پہلی بار زیادہ سے زیادہ 30000 ریال جرمانہ اور 2 سال تک کی سفری پابندی ہے جبکہ دوبارہ خلاف ورزی پر جرمانہ دوگنا کر دیا جائے گا اور سفری پابندی 5 سال تک بڑھائی جا سکتی ہے۔قوانین کے مطابق اگر وہ ممنوعہ قرار دیا گیا ملک خطرناک یا جنگ زدہ ہو تو سزا میں مزید اضافہ کیا جائے گا، اگر مسافر کی عمر 60 سال سے زیادہ ہو، وہاں اس کا قریبی رشتہ دار مقیم ہو یا وہ صرف 48 گھنٹے سے کم وقت کیلیے ٹرانزٹ پر رکا ہو تو سزا میں نرمی کی جا سکتی ہے۔علاوہ ازیں، پاسپورٹ کے حصول کیلیے غلط معلومات دینے پر 5000 ریال تک جرمانہ اور 6 ماہ کی سفری پابندی ہو سکتی ہے، کسی دوسرے کو اپنا پاسپورٹ استعمال کرنے کیلیے دینا 100,000 ریال جرمانہ اور 5 سال کی سفری پابندی کا باعث بنے گا۔مقررہ بندرگاہوں یا ایئرپورٹس کے علاوہ کسی اور راستے سے ملک میں داخل ہونے یا باہر جانے پر 1 لاکھ ریال تک جرمانہ اور 5 سال کی سفری پابندی لگائی جائے گی۔پاسپورٹ کی معلومات یا تصویر میں غیر قانونی تبدیلی کرنے والوں کا کیس براہ راست پبلک پراسیکیوشن کو بھیجا جائے گا، ہر شہری پر لازم ہے کہ وہ اپنا پاسپورٹ محفوظ جگہ پر رکھے اور ملک کے اندر سفر کے دوران اسے ساتھ نہ لے جائے کیونکہ ملک کے اندر شناخت کیلیے صرف قومی شناختی کارڈ کافی ہے۔الیکٹرانک طور پر گمشدہ رپورٹ کیے گئے پاسپورٹ پر سفر کرنا منع ہے، اگر پاسپورٹ مل جائے تو اسے محکمہ پاسپورٹ میں جمع کروا کر منسوخ کروانا ضروری ہے۔جو سعودی شہری بیرون ملک مستقل یا طویل عرصے کیلیے مقیم ہیں ان کیلیے اپنا پاسپورٹ متعلقہ سعودی سفارت خانے میں رجسٹر کروانا لازمی ہے، اگر کسی کا پاسپورٹ بیرون ملک گم یا خراب ہو جائے تو سفارت خانہ اسے واپسی کیلیے ہنگامی سفری دستاویز جاری کرے گا۔