شہریت قانون ارب پتیوں نہیں غلاموں کے بچوں کے لیے تھا، ٹرمپ نے ووٹرز کے لیے نیا قانون جاری کر دیا

Wait 5 sec.

واشنگٹن (01 اپریل 2026): امریکا میں مڈٹرم الیکشن سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایگزیکٹیو آرڈر جاری کرتے ہوئے انتخابات میں ووٹرز کے لیے شہریت کی تصدیق لازمی قرار دے دی۔این بی سی نیوز کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک بار پھر امریکی انتخابات پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، انھوں نے منگل کے روز ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے جس کا مقصد شہریوں کی وفاقی فہرستیں تیار کرنا اور امریکی پوسٹل سروس سے یہ کہنا ہے کہ وہ صرف انہی افراد کو میل کے ذریعے بیلٹ بھیجے جو ان فہرستوں میں شامل ہوں۔اس ایگزیکٹو آرڈر کے تحت ووٹرز کی شہریت کی جانچ کا نظام سخت بنانے اور میل اِن بیلٹ کے طریقہ کار کو محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں، یو ایس پوسٹل سروس کے ذریعے بھیجے جانے والے بیلٹس کی نگرانی مزید سخت ہوگی۔تاہم اس ایگزیکٹو آرڈر کو جلد ہی عدالت میں چیلنج کیے جانے کا امکان ہے، امریکی آئین کے مطابق ووٹنگ کے قوانین بنانے اور انتخابات کا انتظام کرنے کا اختیار ریاستوں کے پاس ہوتا ہے، اگرچہ کانگریس بھی کچھ ضوابط مقرر کر سکتی ہے۔ ٹرمپ نے اوول آفس میں دستخط کرتے ہوئے کہا ’’یہ ایک بڑا معاملہ ہے، مجھے نہیں لگتا کہ عدالتیں اسے کالعدم قرار دے سکیں گی۔‘‘خاتون صحافی کے اغوا کی ویڈیو، امریکی وزارت خارجہ کے ایف بی آئی سے رابطےٹرمپ نے مزید کہا ’’مجھے لگتا ہے یہ انتخابات میں بہت مدد کرے گا، ہم ووٹر آئی ڈی چاہتے ہیں، ہم شہریت کا ثبوت چاہتے ہیں، اور یہ ایک اور موضوع ہوگا جس پر بعد میں بات ہوگی۔ ہم اس پر کام کر رہے ہیں۔‘‘انھوں نے کہا چینی ارب پتیوں کے 75،59 یا 10 بچے ہوتے ہیں وہ امریکی شہری بن جاتے ہیں، شہریت کا قانون غلاموں کے بچوں کے لیے تھا، غیر ملکی ارب پتیوں کے بچوں کے لیے نہیں۔ انھوں نے کہا سول وار کے بعد غلاموں کے بچوں کے لیے شہریت قانون بنایا گیا تھا لیکن دہائیوں تک اس کا غلط استعمال کیا جاتا رہا۔اس حکم کے تحت محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ وفاقی شہریت اور نیچرلائزیشن ریکارڈز، سوشل سیکیورٹی ریکارڈز اور دیگر ڈیٹا بیس کی مدد سے ’’ریاستی شہریت کی فہرستیں‘‘ تیار کرے۔ یہ فہرستیں بعد میں ریاستوں کو دی جائیں گی تاکہ وہ اپنے ووٹرز کی فہرستوں کی تصدیق کر سکیں، اور پوسٹل سروس سے کہا جائے گا کہ وہ صرف انہی افراد کو بیلٹ بھیجے جو ان فہرستوں میں شامل ہوں۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ مالی مشکلات کا شکار پوسٹل سروس اس اضافی ذمہ داری کو کیسے پورا کرے گی۔ایک ذریعے کے مطابق 2020 کے انتخابات کے نتائج کو بدلنے کی ناکام کوششوں میں شامل دو اہم افراد کرٹ اولسن اور ہیدر ہنی بھی اس ایگزیکٹو آرڈر سے متعلق مشاورت میں شامل رہے ہیں۔ اولسن اب وائٹ ہاؤس میں الیکشن سیکیورٹی اور سلامتی کے ڈائریکٹر ہیں، جب کہ ہنی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی میں ایک اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں۔انتخابی ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالتیں ممکنہ طور پر اس حکم کو غیر آئینی قرار دے دیں گی۔ غیر جانبدار ادارے سینٹر فار الیکشن انوویشن اینڈ ریسرچ کے بانی ڈیوڈ بیکر نے کہا ’’یہ حکم عدالتوں کی جانب سے فوری طور پر روک دیا جائے گا۔ آئین واضح طور پر میل بیلٹس سے متعلق قوانین بنانے کا اختیار ریاستوں کو دیتا ہے، اور صدر کو ان معاملات میں مداخلت سے باہر رکھا گیا ہے۔‘‘خیال رہے کہ ٹرمپ طویل عرصے سے امریکی ووٹنگ نظام میں تبدیلی کے خواہاں رہے ہیں، اور وہ مسلسل یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ انھوں نے 2020 کا انتخاب جیتا تھا، حالاں کہ یہ دعویٰ غلط قرار دیا جا چکا ہے۔ اگرچہ ٹرمپ نے بارہا میل کے ذریعے ووٹنگ کو ’دھاندلی‘ قرار دیا ہے لیکن وہ خود بھی ماضی میں اس طریقے سے ووٹ ڈال چکے ہیں، جس میں اس ماہ فلوریڈا میں ہونے والا ایک خصوصی انتخاب بھی شامل ہے۔ٹرمپ نے کانگریس پر بھی دباؤ ڈالا ہے کہ وہ ’’سیو امریکا ایکٹ‘‘ منظور کرے، جس کے تحت شہریت کے ثبوت اور ووٹر آئی ڈی کی نئی شرائط عائد کی جائیں گی۔ یہ بل ایوانِ نمائندگان سے منظور ہو چکا ہے، لیکن سینیٹ میں تاحال رکا ہوا ہے، جہاں موجودہ قوانین کے تحت اسے آگے بڑھانے کے لیے 60 ووٹ درکار ہیں۔