مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کا اثر اب ہندوستان کی کئی ریاستوں میں واضح طور پر نظرآنے لگا ہے جہاں ایل پی جی بحران نے صنعت سے لے کر روزمرہ کی عوامی زندگی تک ہر چیز کو درہم برہم کردیا ہے۔ راجستھان میں کمرشل ایل پی جی کی کمی کی وجہ سے ٹیکسٹائل، ماربل اور کیمیکل فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں، جس سے ہزاروں مزدور بے روزگار ہو کر گھروں کو لوٹنے پر مجبور ہیں۔ یہی صورتحال گجرات، ممبئی مختلف ریاستوں میں دیکھی جارہی ہے۔مغربی ایشیا کی جنگ: اترپردیش میں ایل پی جی بحران، ہوٹل اور ریسٹورنٹ بند ہونے کے دہانے پرممبئی میں بھی یہی صورتحال ہے، لوگ ایک سلنڈر کے لیے لمبی لائن میں کھڑے ہیں اور بلیک مارکیٹنگ کی وجہ سے قیمتیں دوگنا اور 3 گنا بڑھ گئی ہیں۔ گجرات کے سورت میں بھی گیس کی شدید قلت کی وجہ سے بڑے پیمانے پر غیر مقیم مزدوروں کی نقل مکانی شروع ہوگئی ہے۔ متاثرہ مزدوروں کا کہنا ہے کہ جب کھانا پکانا ہی مشکل ہو گیا ہے تو شہر میں رہنا بیکار ہے۔ حکومتی دعوؤں کے باوجود زمینی صورتحال سنگین بنی ہوئی ہے۔خلیجی ممالک میں جنگ کے اثرات راجستھان میں بھی محسوس ہونے لگے ہیں۔ یہاں ٹیکسٹائل سے لے کر سیرامکس اور ماربل تک کی کمپنیوں کو کمرشل ایل پی جی سپلائی کی قلت نے صنعتی سپلائی چین کو درہم برہم کر دیا ہے۔ ہزاروں فیکٹریاں بند ہو چکی ہیں جس سے مزدوروں کی بڑی تعداد بے روزگار ہو گئی ہے۔ فیکٹریاں بند ہونے سے کووڈ جیسی صورتحال کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ جو مزدور بچے بھی ہیں ان کے ایل پی جی گھریلو سلنڈر نہ ملنے سے کھانے پینے کا بھی بحران پیدا ہوگیا ہے۔ایل پی جی بحران کے باعث ’فوڈ ڈیلیوری ورکرس‘ کی کمائی ٹھپ! لاکھوں خاندان فاقہ کشی پر مجبورموجودہ حالات سے ہندوستان کی اقتصادی راجدھانی ممبئی کے کچن بھی متاثر ہوئے ہیں۔ لوگ راشن کے لیے نہیں بلکہ ایک سلنڈر کے لیے لائن میں کھڑے ہیں۔ اس دوران بحران کا فائدہ اٹھانے والے بلیک مارکیٹرز بھی سرگرم ہو گئے ہیں۔ عام لوگوں کا الزام ہے کہ جو سلنڈر پہلے 900-1000 روپے کا ہوتا تھا اب 2500 سے 3000 روپے میں دیا جارہا ہے۔ اتنی بھاری قیمت ادا کرنے کے بعد بھی اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ انہیں سلنڈر ملے گا۔گیس بحران کے درمیان حکومت کا فیصلہ، پی این جی کنکشن رکھنے والوں کو اب نہیں ملے گی ایل پی جینقل مکانی کرنے والے لوگوں کا خیال ہے کہ کم از کم ان کے گاؤں میں ایندھن، لکڑی اور کھیتی باڑی جیسے ذرائع ہیں، جہاں وہ اپنا گزر بسر کرسکیں گے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر بین الاقوامی کشیدگی کم نہ ہوئی تو آنے والے دنوں میں ایندھن کی قلت مزید بڑھ سکتی ہے۔ عام لوگوں میں اس بات سے شدید غصہ پایا جاتا ہے۔ لوگوں کا حکومت سے ایک ہی مطالبہ ہے کہ ’’جنگ چاہے کہیں بھی ہو ہمارے گھر کے چولہے بجھنے نہیں چاہئیں‘‘۔ حکومت کو اس بلیک مارکیٹنگ کو روکنے اور متبادل سپلائی کو یقینی بنانے کے لیے جنگی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔اسی طرح گجرات کے سورت میں ایل پی جی کی شدید قلت دیکھی گئی ہے، بلیک مارکیٹ میں قیمتوں میں آگ لگی ہوئی ہے جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پرغیر مقیم مزدوروں کی نقل مکانی شروع ہوگئی ہے۔ بہت سے مزدور اپنا پورا سامان برتن، چولہے، بالٹیاں وغیرہ لے کر ٹرین میں سوار ہوکر گاؤں لوٹ رہے ہیں۔ نقل مکانی کے لیے مجبور مزدوروں کا کہنا ہے کہ گیس کی قلت کی وجہ سے کھانا نہیں کھا پارہے ہیں۔