اترپردیش کیڈر کے آئی اے ایس افسر رنکو سنگھ راہی نے منگل (31 مارچ) کو استعفیٰ دے دیا۔ رنکو سنگھ راہی نے ریاستی حکومت پر پوسٹنگ نہ دینے کا الزام عائد کیا ہے۔ اپنے استعفیٰ کے خط میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ انہیں نہ کوئی پوسٹنگ دی گئی اور نہ ہی کوئی کام الاٹ کیا گیا۔ واضح رہے کہ 2022 بیچ کے آئی اے ایس رنکو سنگھ راہی شاہجہاں پور میں ایس ڈی ایم رہتے ہوئے وکیلوں کے سامنے ’اُٹھک بیٹھک‘ کرنے کی وجہ سے سرخیوں میں آئے تھے۔ اس کے بعد ریاستی حکومت نے انہیں ریونیو کونسل سے منسلک کر دیا تھا۔ رنکو سنگھ راہی نے الزام عائد کیا کہ ایس ڈی ایم رہتے ہوئے کارروائی کے بعد انہیں سائیڈ لائن کر دیا گیا۔IAS रिंकू सिंह राही का इस्तीफा: सरकार पर लगाया पोस्टिंग न देने का आरोप...https://t.co/T0tz8iB8Vq— News4Nation (@news4nations) March 31, 2026آئی اے ایس رنکو سنگھ پہلے بھی کئی بار سرخیوں میں رہے ہیں۔ آئی اے ایس بننے سے قابل انہوں نے ’یو پی پی سی ایس‘ کا امتحان پاس کیا تھا اور سوشل ویلفیئر افسر کے طور پر تعینات رہے۔ 2009 میں مظفر نگر میں سوشل ویلفیئر افسر کے عہدہ پر تعیناتی کے دوران ایک بڑے گھوٹالے کا انکشاف کیا تھا، جس کے بعد ان پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا، جس میں انہیں 7 گولیاں لگی تھیں۔ شدید طور پر زخمی ہونے کے باوجود وہ بچ گئے اور بعد میں انہوں نے اپنی لڑائی جاری رکھی۔اس درمیان ملازمت کے ساتھ ساتھ رنکو سنگھ راہی نے ’یو پی ایس سی‘ کی تیاری جاری رکھی۔ 2022 میں انہیں کامیابی ملی اور ان کا انتخاب آئی اے ایس کے لیے ہو گیا۔ اتفاق سے انہیں یوپی کیڈر ہی الاٹ ہوا۔ لال بہادر شاستری آئی اے ایس اکادمی میں ٹریننگ کے دوران انہیں فیلڈ ٹریننگ کے لیے اترپردیش بھیجا گیا۔ یہاں شاہجہاں پور ضلع کی تِلہر تحصیل کا انہیں ایس ڈی ایم بنایا گیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ جس روز وہ تِلہر تحصیل میں جوائن کرنے جا رہے تھے، تبھی تحصیل میں وکلاء کا احتجاج جاری تھا۔ وکلاء کا احتجاج دیکھ کر وہ ان سے ملنے چلے گئے۔ اس دوران ایک ایسا واقعہ پیش جس کی وجہ سے آئی اے ایس رنکو سنگھ سرخیوں میں آ گئے۔ دراصل انہوں نے وکلاء کے سامنے ’اُٹھک بیٹھک‘ کر دی، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر تیزی سے وائرل ہو گئی۔وکلاء کے سامنے ’اُٹھک بیٹھک‘ کے واقعہ کے بعد ریاستی حکومت نے انہیں ریونیو کونسل لکھنؤ سے منسلک کر دیا تھا، تب سے انہیں نئی پوسٹنگ نہیں ملی تھی۔ اسی بات سے ناراض ہو کر آئی اے ایس رنکو سنگھ راہی نے منگل کو استعفیٰ دے دیا۔ استعفیٰ میں ان کا درد بھی چھلک پڑا۔ ان کے استعفیٰ کے بعد انتظامی اور سیاسی حلقوں میں بحث تیز ہو گئی ہے۔ اب سب کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ ریاستی حکومت ان کے استعفیٰ پر کیا فیصلہ لیتی ہے؟