کانگریس نے بہار میں خاتون کے ساتھ شرمناک سلوک اور اتراکھنڈ میں ریٹائرڈ فوجی کے قتل پر کیا اظہارِ تشویش

Wait 5 sec.

بہار کے نالندہ ضلع میں ایک خاتون کے ساتھ کچھ لوگوں کا فحش عمل سرخیوں میں ہے۔ اس واقعہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر تیزی کے ساتھ وائرل ہو رہی ہیں۔ دوسری طرف اتراکھنڈ کے دہرادون میں گزشتہ روز ایک سبکدوش فوجی کا برسرعام قتل کر دیا گیا، جس نے ریاست میں نظامِ قانون کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ ان دونوں ہی واقعات پر کانگریس نے اپنی شدید فکر کا اظہار کیا ہے اور برسراقتدار بی جے پی حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔नालंदा में एक महिला के साथ बेहद ही घृणित बर्ताव किया गया। बदमाशों ने सरेआम महिला के कपड़े फाड़े और इसका वीडियो बनाकर वायरल किया। ये घटना समाज पर कलंक है। ऐसा करने वालों को सख्त से सख्त सजा मिलनी चाहिए।ये घटना बताती है कि बिहार में पूरी तरह से 'जंगलराज' कायम है और महिलाएं…— Congress (@INCIndia) March 31, 2026بہار میں خاتون کے ساتھ نازیبا حرکت پر کانگریس نے اپنا رد عمل سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر انتہائی تشویش کے ساتھ ظاہر کیا ہے۔ اپوزیشن پارٹی کا کہنا ہے کہ ’’نالندہ میں ایک خاتون کے ساتھ بے حد گھناؤنا سلوک کیا گیا۔ بدمعاشوں نے سرعام خاتون کے کپڑے پھارے اور اس کی ویڈیو بنا کر وائرل کیا۔‘‘ اس میں مزید لکھا گیا ہے کہ ’’یہ واقعہ سماج پر داغ ہے۔ ایسا کرنے والوں کو سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ بہار میں پوری طرح سے ’جنگل راج‘ قائم ہے اور خواتین محفوظ نہیں ہیں۔‘‘بہار میں حکمراں بی جے پی اور جنتا دل یو حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کانگریس نے سخت الزام بھی عائد کیا ہے۔ کانگریس کا کہن اہے کہ ’’بی جے پی-جنتا دل یو حکومت نے جرائم پیشوں کو تحفظ فراہم کر رکھا ہے، اور اب وہی جرائم پیشے سڑکوں پر کھلے عام گھوم رہے ہیں اور ایسے واردات انجام دے رہے ہیں۔‘‘ قابل ذکر ہے کہ اس معاملہ میں نالندہ پولیس نے 2 ملزمین کی گرفتاری کی اطلاع دی ہے۔ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ تیسرے ملزم کی تلاش زور و شور سے جاری ہے۔उत्तराखंड के ध्वस्त लॉ एंड ऑर्डर ने रिटायर्ड ब्रिगेडियर की जान ले लीBJP सरकार को शर्म आनी चाहिए pic.twitter.com/Eksu7krSPt— Congress (@INCIndia) March 31, 2026دوسری طرف اتراکھنڈ کے دہرادون میں سبکدوش فوجی کو گولی مارے جانے پر کانگریس نے نظامِ قانون کو نشانے پر لیا ہے۔ سوشل میڈیا پوسٹ میں کانگریس نے لکھا ہے کہ ’’اتراکھنڈ کے منہدم لاء اینڈ آرڈر نے ریٹائرڈ بریگیڈیئر کی جان لے لی۔ بی جے پی حکومت کو شرم آنی چاہیے۔‘‘ اس پوسٹ کے ساتھ کانگریس نے ایک ویڈیو بھی شیئر کی ہے جس میں نظامِ قانون کی حالت زار کو دکھایا گیا ہے۔ بیک گراؤنڈ سے آواز دی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ’’دہرادون میں صبح کی سیر پر نکلے سبکدوش بریگیڈیئر وی کے جوشی جی کا دن دہاڑے قتل صاف ظاہر کرتا ہے کہ اتراکھنڈ کا نظامِ قانون پوری طرح تباہ ہو چکا ہے۔‘‘اس ویڈیو میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’’سرحد پر ملک کی حفاظت میں زندگی وقف کرنے والے آج اپنے شہر میں ہی غیر محفوظ ہیں۔ عام آدمی ڈر کر جینے کو مجبور ہے۔‘‘ ساتھ ہی کہا جا رہا ہے کہ ’’بی جے پی حکومت میں صرف جرائم پیشے بے خوف اور محفوظ ہیں۔ کبھی امن اور تحفظ کی پہچان رہا اتراکھنڈ بی جے پی کی غیر ذمہ دار قیادت میں تشدد، قتل اور خوف کے سایہ میں سمٹ کر رہ گیا ہے۔ شرمناک!‘‘देहरादून में मॉर्निंग वॉक पर निकले एक सेवानिवृत्त ब्रिगेडियर वी के जोशी जी की दिनदहाड़े निर्मम हत्या साफ बताती है कि उत्तराखंड की कानून-व्यवस्था पूरी तरह ध्वस्त हो चुकी है।सरहद पर देश की रक्षा में जीवन समर्पित करने वाले ही आज अपने शहर में ही असुरक्षित हैं - आम नागरिक और कई…— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) March 31, 2026دہرادون قتل واقعہ پر کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے بھی اپنا سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر لکھا ہے کہ ’’دہرادون میں صبح کی سیر پر نکلے ایک سبکدوش بریگیڈیئر وی کے جوشی کا دن دہاڑے بے رحمی سے قتل صاف ظاہر کرتا ہے کہ اتراکھنڈ کا نظامِ قانون پوری طرح تباہ ہو چکا ہے۔ سرحد پر ملک کی حفاظت میں زندگی وقف کرنے والے آج اپنے ہی شہر میں غیر محفوظ ہیں۔‘‘ راہل گاندھی نے ریاست کی بی جے پی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’بی جے پی راج میں صرف جرائم پیشے بے خوف اور محفوظ ہیں۔ ہمارا اتراکھنڈ آج بی جے پی کی غیر ذمہ دارانہ قیادت میں تشدد، قتل اور خوف کے سایے میں سمٹ کر رہ گیا ہے۔‘‘