واشنگٹن : امریکا نے امیگریشن پالیسی میں نرمی کرتے ہوئے کچھ پناہ گزینوں کیلئے اسائلم کا عمل جزوی بحال کردیا ہے جس سے ہزاروں کیسز دوبارہ کھلنے کی امید پیدا ہوگئی۔رؤئٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکا میں امیگریشن پالیسی میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز نے پناہ گزینوں (اسائلم) کی بعض درخواستوں پر عائد پابندی ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔یہ پابندی گزشتہ سال نومبر میں اس وقت عائد کی گئی تھی جب ایک پناہ گزین پر امریکی نیشنل گارڈ کے دو اہلکاروں پر فائرنگ کا الزام سامنے آیا تھا، جس کے بعد سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے سخت امیگریشن اقدامات کرتے ہوئے تمام اسائلم درخواستوں کی کارروائی روک دی تھی۔یو ایس سی آئی ایس کے مطابق اب صرف ان ممالک کے پناہ گزینوں کی درخواستوں پر کارروائی دوبارہ شروع کی جا رہی ہے جنہیں "کم خطرہ” (نون ہائی رسک ) قرار دیا گیا ہے، تاہم ان ممالک کی فہرست جاری نہیں کی گئی۔ادارے کا کہنا ہے کہ درخواستوں کی جانچ پڑتال (اسکریننگ) اور سکیورٹی ویٹنگ کا عمل پہلے سے زیادہ سخت رکھا جائے گا تاکہ قومی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔واضح رہے کہ اس واقعے کے بعد امریکا پہلے ہی امیگریشن قوانین سخت کرچکا تھا، جس کے تحت متعدد ممالک پر سفری پابندیاں بھی عائد کی گئیں، جنہیں بعد میں مزید توسیع دی گئی۔ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے ہزاروں زیر التوا اسائلم کیسز کی سماعت دوبارہ شروع ہونے کی راہ ہموار ہوگی، تاہم "ہائی رسک” ممالک کے شہریوں پر پابندیاں بدستور برقرار رہیں گی۔یاد رہے کہ دسمبر 2025 کی اطلاعات کے مطابق امریکا نے 19 ممالک کے شہریوں کے لیے امیگریشن اور اسائلم درخواستوں پر پابندی عائد کی تھی جو سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر لگائی گئی تھی۔اس اقدام سے افغان پاسپورٹ ہولڈرز اور دیگر ممالک کے تارکین وطن متاثر ہوئے، جن کی درخواستیں عارضی طور پر معطل کی گئیں۔امریکا نے 19 ممالک کے تارکین وطن کی تمام امیگریشن درخواستیں روک دیں