تہران (یکم اپریل 2026): ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دنیا بھر کی توجہ کا مرکز آبنائے ہرمز کو پر امن آبی گزرگاہ بننے کا فارمولا بتا دیا۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز جنگ کے بعد ’پر امن آبی گزرگاہ‘ بن سکتی ہے۔ جنگ کے بعد ایران اور عمان اس کا فیصلہ کریں گے۔عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ہم خطے اور خطے سے باہر اپنے دوستوں کو مدنظر رکھیں گے، جنگ کے حالات میں بھی دوستوں کے لیے یقینی بنایا کہ انہیں محفوظ راستہ ملے۔ایرانی وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کے 15 نکات کا کوئی جواب نہیں دیا۔ جنگ بندی قبول نہیں، جنگ کا خاتمہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ مجھے پہلے کی طرح اب بھی وٹکوف سے براہ راست پیغامات موصول ہوتے ہیں۔ پیغامات کے تبادلے کا یہ مطلب نہیں کہ ایران واشنگٹن سے مذاکرات کر رہا ہے۔عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران کو امریکا کے ساتھ مذاکرات کا کبھی اچھا تجربہ نہیں رہا۔ امریکا نے دو بار مذاکرات کیے اور اس کا نتیجہ حملے کی صورت میں نکلا۔ مذاکرات کے دوران امریکا میں ہم ایمانداری نہیں دیکھتے۔ایران جنگ سے متعلق تمام خبریںایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ہم امریکی افواج کا انتظار کر رہے ہیں، اور مجھے نہیں لگتا کہ امریکی فوج زمینی کارروائی کی ہمت کرے گی۔ اگر زمینی جنگ ہوئی تو ہم اور بھی بہتر طریقے سے دفاع کر سکتے ہیں۔ ویسے بھی ہم نے یہ جنگ شروع نہیں کی تھی بلکہ اپنا دفاع کیا ہے۔