ریڈیو فنڈنگ، بال روم کی تعمیر، ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف ایک دن میں 2 بڑے فیصلے آ گئے

Wait 5 sec.

واشنگٹن (01 اپریل 2026): امریکا کی ایک عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف ایک دن میں دو بڑے فیصلے دے دیے۔فیڈرل جج نے وائٹ ہاؤس میں 400 ملین ڈالر کی لاگت سے بال روم کی تعمیر روکنے کا حکم دے دیا ہے، عدالت نے نیشنل پبلک ریڈیو کی فنڈنگ روکنے کا عمل بھی غیر قانونی قرار دے دیا۔بال روم کیس میں جج نے اپنے فیصلے میں کہا کہ صدر وائٹ ہاؤس کا نگراں ہوتا ہے مالک نہیں، کانگریس کی اجازت کے بغیر بال روم کو گرانا غیر قانونی ہے۔صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر رد عمل دیتے ہوئے لکھا بال روم کیس میں جج نے کہا کہ ہمیں کانگریس کی منظوری لینی ہوگی، وہ غلط ہیں، وائٹ ہاؤس میں تعمیرات کے لیے کبھی بھی کانگریس کی منظوری نہیں لی گئی۔ انھوں نے کہا بال روم نجی عطیات سے تعمیر کیا جا رہا ہے، وفاقی ٹیکس دہندگان کا پیسہ اس میں شامل نہیں ہے۔وفاقی جج نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس ایگزیکٹو آرڈر کے بنیادی حصے کو بھی مسترد کر دیا ہے جس کے تحت نیشنل پبلک ریڈیو (NPR) اور پی بی ایس کی وفاقی فنڈنگ روکنے کی کوشش کی گئی تھی، یہ کہتے ہوئے کہ یہ حکم براہِ راست ان اداروں کے پہلی ترمیم کے حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔شہریت قانون ارب پتیوں نہیں غلاموں کے بچوں کے لیے تھا، ٹرمپ نے ووٹرز کے لیے نیا قانون جاری کر دیاضلعی عدالت کے جج نے قرار دیا کہ ٹرمپ وائٹ ہاؤس کا یہ ایگزیکٹو آرڈر، جس کا مقصد مذکورہ اداروں کی فنڈنگ ختم کرنا تھا، پہلی ترمیم کے خلاف ہے، اس لیے یہ ’’غیر قانونی اور ناقابلِ نفاذ‘‘ ہے۔ تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس فیصلے کے بعد عوامی نشریاتی اداروں کی وفاقی فنڈنگ کے مستقبل پر کیا اثر پڑے گا، کیوں کہ حکومت اس فیصلے کے خلاف اپیل کر سکتی ہے۔اپنے فیصلے میں، امریکی ضلعی عدالت برائے ڈسٹرکٹ آف کولمبیا کے جج رینڈولف ڈی موس نے کہا ’’پہلی ترمیم ایک حد مقرر کرتی ہے جسے حکومت عبور نہیں کر سکتی، خاص طور پر جب وہ اپنے اختیارات بشمول مالی وسائل کو استعمال کر کے دوسروں کے ناپسندیدہ خیالات کو سزا دینے یا دبانے کی کوشش کرے۔‘‘اس مقدمے میں نیشنل پبلک ریڈیو، ایسپن پبلک ریڈیو، کولوراڈو پبلک ریڈیو اور KSUT پبلک ریڈیو مدعی تھے۔دریں اثنا، ٹرمپ نے کہا کہ وائٹ ہاؤس کی حفاظت کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، اور اس کے تمام دروازوں اور کھڑکیوں کو محفوظ بنایا جا رہا ہے، بلٹ پروف شیشے لگائے جا رہے ہیں، چھت کو ڈرون پروف بنایا جا رہا ہے، وائٹ ہاؤس میں بم شیلٹرز اور اسپتال بھی بنایا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا میں وائٹ ہاؤس اور امریکی حفاظت کے لیے اقدامات کر رہا ہوں، اور اس کے لیے مجھے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں۔