دہلی- این سی آر میں 462 فیکٹریوں پر لٹکی تلوار، آلودگی کے سبب سی پی سی بی نے جاری کیا الٹی میٹم

Wait 5 sec.

 قومی راجدھانی خطہ (دہلی-این سی آر) میں آلودگی سے ہر شخص پریشان ہے۔ اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے عدالتوں کی جانب سے ریاستی انتظامیہ کو اکثر ہدایات جاری کی جاتی ہیں، باوجود اس کے ماحول میں کسی طرح کی بہتری ہوتی نظر نہیں آ رہی ہے۔ ان حالات میں اب سینٹرل پولیوشن کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی) نے دہلی، ہریانہ، راجستھان اور اترپردیش میں واقع 462 فیکٹریوں کی نشاندہی کی ہے جو آلودگی نگرانی کے ضروری آلات نصب کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ ان تمام کمپنیوں پر اب پابندی یا بھاری جرمانہ جیسی سخت کارروائی کی تلوار لٹک رہی ہے۔’دہلی کی فضائی آلودگی سنگین عوامی صحت بحران بن گئی‘، اجئے ماکن نے زہریلی ہوا پر پھر کیا اظہارِ تشویشآلودگی پر قابو پانے کے لیے حکومت نے خاص زمرے کی صنعتوں کے لیے آن لائن کنٹینیوئس ایمیشن مانیٹرنگ سسٹم (او سی ای ایم ایس) کی تنصیب لازمی قرار دیا ہے۔ اس نظام میں جدید کیمرے اور سینسر لگائے جاتے ہیں جو فیکٹریوں سے نکلنے والے دھوئیں اور فضلے کی بروقت (براہ راست) نگرانی کرتے ہیں۔ یہ آلات سی پی سی بی کے سرور اور پورٹل سے براہ راست مربوط کئے جاتے ہیں۔ اس سے افسران کو اپنے دفتر میں بیٹھے ہی معلوم ہوجاتا ہے کہ کون سی فیکٹری مقررہ معیار سے زیادہ آلودگی پیدا کر رہی ہے۔این سی آر میں فضائی آلودگی کا بحران، نوئیڈا سب سے زیادہ متاثر، ورک فرام ہوم کا مطالبہسی پی سی بی کی تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ 462 شناخت شدہ فیکٹریوں میں یا تو یہ سسٹم نصب ہی نہیں کیا گیا یا ان کے آلات طے شدہ معیار کے مطابق نہیں ہیں۔  اس وجہ سے ان صنعتی یونٹوں سے ہونے والے اخراج کی درست نگرانی ممکن نہیں ہوپا رہی تھی۔ اس صورتحال کو قوانین کی سنگین خلاف ورزی مانتے ہوئے سی پی سی بی نے متعلقہ ریاستوں کے آلودگی کنٹرول بورڈز کو ان یونٹوں کے خلاف فوری کارروائی کرنے کی ہدایت دی ہے۔ نشاندہی کی گئی فیکٹریوں میں دہلی میں 3 یونٹ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ این سی آر کے اہم صنعتی علاقوں کے تحت بہادر گڑھ، گروگرام، فرید آباد، سونی پت، پانی پت، ریواڑی، پلول، جھجر، جیند اور ہریانہ میں کرنال، اتر پردیش میں غازی آباد اور ہاپوڑ اور راجستھان کے الور اور کھیرتھل- تیجارا شامل ہیں۔واضح رہے کہ دہلی۔ این سی آر میں آلودگی کی وجہ سے فضائی معیار (اے کیو آئی)  ایک سنگین چیلنج ہوتا ہے خاص طور پر موسم سرما میں آلودگی کی حالت اس قدر خراب ہوتی ہے کہ اکثر دن میں بھی اندھیرا چھا جاتا ہے۔ سی پی سی بی کا ماننا ہے کہ صنعتوں کا ریئل ٹائم ڈیٹا شیئر نہ کرنا آلودگی پر قابو پانے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ اس کارروائی کا مقصد صنعتوں کو جوابدہ بنانا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ کوئی بھی یونٹ خفیہ طور پر زہریلی گیسوں کا اخراج نہ کر سکے۔