واشنگٹن(2 اپریل 2026): امریکی سینٹ کام نے ایران میں 12 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنانے کی تفصیلات جاری کر دیں۔امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایران کے خلاف جاری آپریشن ’ایپک فیوری‘ کی تازہ ترین تفصیلات جاری کر دی ہیں، جس میں ایرانی فوجی صلاحیتوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔سینٹ کام کے مطابق اس آپریشن کے دوران اب تک ایران میں 12 ہزار 300 سے زائد مختلف اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی حملوں میں 155 سے زائد ایرانی بحری جہازوں کو یا تو مکمل تباہ کر دیا گیا ہے یا انہیں شدید نقصان پہنچا ہے۔ان اہداف میں ایران کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز، فضائی دفاعی نظام، بیلسٹک میزائل سائٹس اور ڈرون تیار کرنے والے مراکز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایرانی آبدوزیں اور اینٹی شپ میزائل سائٹس بھی امریکی کارروائیوں کا نشانہ بنی ہیں۔اعلامیے کے مطابق اس وقت امریکی فضائی، بحری اور زمینی طاقت مکمل طور پر متحرک ہے۔ فضائی کارروائیوں میں بی ون، بی ٹو اور بی ففٹی ٹو جیسے بھاری بھرکم بمبار طیاروں سمیت ایف 22 اور ایف 35 اسٹیلتھ فائٹر طیارے حصہ لے رہے ہیں۔ مزید برآں، امریکی ڈرونز اور الیکٹرانک وار فیئر طیارے بھی سرگرم عمل ہیں۔بحری محاذ پر امریکی ایئرکرافٹ کیریئرز اور سب میرینز میدان میں موجود ہیں، جبکہ دفاعی پوزیشن کو مضبوط بنانے کے لیے پیٹریاٹ اور تھاڈ میزائل سسٹمز تعینات کر دیے گئے ہیں۔ سینٹ کام کا کہنا ہے کہ جدید راکٹ سسٹمز اور اینٹی ڈرون دفاعی نظام کو بھی مکمل طور پر فعال رکھا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ جوابی کارروائی کا فوری جواب دیا جا سکے۔