کیرالہ میں وزیر اعظم مودی اور ایل ڈی ایف پر جم کر برسیں پرینکا گاندھی، پینارائی وجین کو ’مودی کی بی-ٹیم‘ قرار دیا

Wait 5 sec.

کانگریس کی رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے جمعرات کو کیرالہ کے چرائینکیزو میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیرالہ کے عوام کی جم کر تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ ’’کیرالہ آزادئ اظہار، تعلیم، مساوات اور ہمدردی کی روایات کا علمبردار ہے، جو ہندوستان کی حقیقی روح کی علامت ہے۔‘‘پرینکا گاندھی نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ ’’یہ نارائن گرو جی جیسے انقلابی مفکرین کی سرزمین ہے۔ وہ مہاتما گاندھی جی کے لیے بڑی تحریکوں میں سے ایک تھے اور کئی معنوں میں، آپ آج بھی ان روایات کو جی رہے ہیں۔‘‘ پرینکا گاندھی نے کہا کہ کیرالہ آزادئ اظہار، تعلیم، مساوات اور ہمدردی کی روایات کے لیے جانا جاتا ہے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہے کہ کیرالہ کا جذبہ ہی ہندوستان کا حقیقی جذبہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج بھی کیرالہ کے لوگ ان اقدار پر عمل پیرا ہیں، جو پورے ہندوستان کے لیے ایک مثال ہیں۔خطاب کے دوران پرینکا گاندھی نے مغربی ایشیا کے معاملے پر بلائی گئی کل جماعتی میٹنگ میں وزیر اعظم نریندر مودی کی عدم موجودگی پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک اہم بحث تھی، لیکن وزیر اعظم کا اس میں شامل نہ ہونا ظاہر کرتا ہے کہ وہ اسے سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ ساتھ ہی انہوں نے مرکزی حکومت کی پالیسیوں کی مذمت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حکومت نے ہندوستان کی توانائی کی حفاظت اور خود مختاری پر سمجھوتہ کیا ہے۔ کانگریس لیڈر کے مطابق ملک کے فیصلوں کا اثر عام لوگوں پر پڑ رہا ہے۔کانگریس لیڈر نے کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پنارائی وجین اور لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ (ایل ڈی ایف) کو بھی ہدف تنقید بنایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریاستی حکومت عوام کی ضروریات کو نظر انداز کر رہی ہے اور بی جے پی کے ساتھ ملی بھگت کر رہی ہے۔ پرینکا گاندھی نے ریاست میں روزگار کی کمی، خاص طور سے نرسوں کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ کم تنخواہوں اور مواقع کی کمی کی وجہ سے لوگوں کو ریاست چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے عملے کی کمی اور صحت کے نظام کی بگڑتی ہوئی حالت کا بھی مسئلہ اٹھایا۔