بنارس میں بلڈوزر کارروائی: کھڑگے کا مودی حکومت پر صدیوں پرانی تہذیبی وراثت مٹانے کا الزام

Wait 5 sec.

کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے وزیر اعظم نریندر مودی پر بنارس کے تاریخی منی کرنیکا گھاٹ میں توڑ پھوڑ اور بلڈوزر کارروائی کو لے کر شدید حملہ کیا ہے۔ ایکس پر جاری اپنے طویل بیان میں انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے خوبصورتی اور تجارتی ترقی کے نام پر صدیوں پرانی مذہبی، ثقافتی اور روحانی وراثت کو مسمار کر دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام صرف تاریخی ڈھانچوں کو نقصان پہنچانے تک محدود نہیں بلکہ ملک کی تہذیبی شناخت پر بھی ضرب ہے۔کھڑگے نے کہا کہ منی کرنیکا گھاٹ، جس کا ذکر قدیم ادوار میں ملتا ہے اور جسے لوک ماتا اہلیابائی ہولکر نے دوبارہ آباد کروایا تھا، آج تزئین و آرائش کے نام پر ناقابل تلافی نقصان سے دوچار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پہلے کوریڈور کے نام پر چھوٹے بڑے مندروں اور دیوالیوں کو گرایا گیا اور اب قدیم گھاٹوں کی باری آ گئی ہے۔ ان کے بقول حکومت کی سوچ یہ ہے کہ ہر تاریخی وراثت کو مٹا کر اس پر اپنی نیم پلیٹ لگا دی جائے۔کانگریس صدر نے سوال اٹھایا کہ کیا صفائی، مرمت اور خوبصورتی کے کام وراثت کو محفوظ رکھتے ہوئے نہیں ہو سکتے تھے۔ انہوں نے مثال دی کہ کس طرح پارلیمنٹ احاطے میں مہاتما گاندھی اور بابا صاحب امبیڈکر سمیت ملک کی عظیم شخصیات کے مجسموں کو بغیر کسی مشورے کے ایک طرف منتقل کر دیا گیا۔ اسی طرح جلیانوالہ باغ میموریل میں تزئین کے نام پر آزادی کے متوالوں کی قربانیوں سے جڑی یادوں کو کمزور کیا گیا۔کھڑگے نے یہ بھی پوچھا کہ منی کرنیکا گھاٹ میں صدیوں پرانی مورتیاں، جو بلڈوزر کارروائی کا شکار ہوئیں، انہیں ملبے میں ڈالنے کے بجائے کسی میوزیم میں محفوظ کیوں نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بنارس دنیا کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہے جہاں روحانیت، ثقافت، تعلیم اور تاریخ کا ایسا سنگم ہے جو پوری دنیا کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔.@narendramodi जी, भोंडे सौंदर्यीकरण और व्यवसायीकरण के नाम पर आपने बनारस के मणिकर्णिका घाट में बुलडोज़र चलवाकर सदियों पुरानी धार्मिक, सांस्कृतिक और आध्यात्मिक विरासत को ध्वस्त कराने का काम किया है। आप चाहतें हैं कि इतिहास की हर धरोहर को मिटाकर बस अपना नेम-प्लेट चिपका दिया… pic.twitter.com/A2yjf0UrYd— Mallikarjun Kharge (@kharge) January 15, 2026انہوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ اس سب کے پیچھے ایک بار پھر سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچانے کی نیت کارفرما ہے۔ ان کے مطابق پہلے پانی، جنگل اور پہاڑ نجی مفادات کے حوالے کیے گئے اور اب ثقافتی وراثت کی باری آ گئی ہے۔ کھڑگے نے وزیر اعظم کے اس دعوے کا حوالہ دیا کہ ’ماں گنگا نے بلایا ہے‘ اور کہا کہ آج حکومت نے اسی ماں گنگا کو فراموش کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بنارس کے گھاٹ اس شہر کی شناخت ہیں اور لاکھوں لوگ ہر سال ’موکش‘ کی امید لے کر یہاں آتے ہیں، ایسے میں ان مقامات کو عوام کی پہنچ سے دور کرنا عوامی اعتماد سے کھلواڑ کے مترادف ہے۔