واشنگٹن (15 جنوری 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران میں پھانسیاں روکنے کی یقین دہانی کرا دی گئی۔امریکی صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ا ایران میں پھانسیوں کا سلسلہ روک دیا گیا ہے، ایران میں آج بڑے پیمانے پر پھانسیاں طے تھی جو منسوخ کر دی گئیں۔انھوں نے کہا ہمیں بتایا گیا ہے کہ ایران میں مظاہرین کا قتل عام بھی رک چکا ہے، انتہائی معتبر ذرائع نے ایران کی تازہ صورت حال سے آگاہ کیا ہے۔ مظاہرین پر تشدد کیا گیا تو جواب دینے پر مجبور ہوں گے۔ایران پر امریکا کے فوری حملے کا خطرہ بڑھ گیا، برطانوی خبر رساں ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ تمام اشارے ظاہر کرتے ہیں کہ عنقریب حملہ ہو سکتا ہے، اچانک حملہ امریکی فوج کی حکمت عملی کا حصہ ہوگا۔امریکا نے وینزویلا کا 500 ملین ڈالر کا تیل عالمی منڈی میں فروخت کر دیاخبر رساں ادارے کے مطابق ایران نے اپنی فضائی حدود تمام پروازوں کے لیے بند کر دیں تاہم چند گھنٹوں کے لیے عارضی طور پر پھر کھول دیں، برطانیہ نے عارضی طور پر تہران میں سفارت خانہ بند کر دیا ہے، مغربی ممالک نے اپنے شہریوں کو ایران سے فوری نکلنے کی ہدایت کی ہے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز کہا تھا کہ اگر ایرانی حکومت مظاہرین کو پھانسی پر لٹکانا شروع کرتی ہے تو امریکا انتہائی سخت کارروائی کرے گا، لیکن انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ کارروائیاں کیا ہوں گی۔ ٹرمپ نے سی بی ایس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا میں نے پھانسی کے بارے میں نہیں سنا ہے۔ اگر وہ انھیں پھانسی دیتے ہیں تو آپ بھی دیکھ لیں گے کہ کیا ہوتا ہے … اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو ہم بہت سخت کارروائی کریں گے۔