خليل الحية یا خالد مشعل، حماس کی قیادت کون سنبھالے گا؟

Wait 5 sec.

قاہرہ (14 جنوری 2026): حماس کی قیادت کون سنبھالے گا، اس سلسلے میں انتخابی عمل شروع ہو گیا ہے۔خليل الحية اور خالد مشعل کو تنظیم کی قیادت کے لیے مضبوط امیدوار سمجھا جا رہا ہے، حماس گزشتہ دو برسوں سے جاری جنگ کے باعث شدید دباؤ میں ہے، جس کا آغاز 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر اس کے حملے سے ہوا تھا، جب کہ اسے بین الاقوامی سطح پر اسلحہ چھوڑنے کے مطالبات کا بھی سامنا ہے۔حماس کی قیادت کے انتخاب کے لیے فلسطینی مزاحمتی تنظیم میں انتخابی عمل کا آغاز ہو چکا ہے، حماس ذرائع کا کہنا ممکنہ طور پر رواں ماہ کے اختتام تک انتخابی مرحلہ مکمل ہو جائے گا۔حماس تنظیم 16 اکتوبر 2024 کے روز قائد یحییٰ سنوار کی شہادت کے بعد سے بغیر لیڈر کے محض مشترکہ مشاورتی نظام کے تحت چل رہی تھی، روئٹرز کے مطابق حماس کی جانب سے اس امر کی تصدیق کی گئی ہے کہ اس مہینے کے اختتام تک حماس کی قیادت کے انتخاب کا مرحلہ مکمل ہو جائے گا۔سخت سردی سے نبرد آزما فلسطینیوں پر تباہ حال عمارتوں کی دیواریں گر پڑیں، 5 شہیدتاہم اس بات پر خدشات موجود ہیں کہ نیا سربراہ بھی اسی انجام سے دوچار ہو سکتا ہے، جس سے اسرائیلی مہلک حملوں میں دیگر گزرے ہیں۔ یہ دونوں رہنما قطر میں مقیم ہیں اور 5 رکنی کونسل کا حصہ ہیں جو یحییٰ سنوار کی موت کے بعد سے حماس کی قیادت کر رہی ہے۔ سنوار 7 اکتوبر کے حملے کے مرکزی منصوبہ ساز تھے۔ ان کے پیش رو، اسماعیل ہنیہ، کو 2024 میں ایران کے دورے کے دوران اسرائیل نے قتل کر دیا تھا۔ذرائع کے مطابق انتخابی عمل کا آغاز ہو چکا ہے۔ حماس کا سربراہ شوریٰ کونسل کے خفیہ ووٹ کے ذریعے منتخب کیا جاتا ہے۔ شوریٰ کونسل 50 ارکان پر مشتمل ہے، جن میں اسرائیلی زیرِ قبضہ مغربی کنارے، غزہ کی پٹی اور جلاوطنی میں مقیم حماس کے ارکان شامل ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک نائب سربراہ کا انتخاب بھی کیا جائے گا، تاکہ صالح العاروری کی جگہ پُر کی جا سکے، جو 2024 میں لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے تھے۔ حماس کے قریبی ذرائع کے مطابق تنظیم ووٹنگ کا عمل مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہے، اگرچہ بعض حلقے اجتماعی قیادت کے دورانیے میں توسیع کے حامی ہیں۔حماس پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار خالد مشعل کو ایک عملی سوچ رکھنے والے دھڑے کا رکن قرار دیتے ہیں، جن کے سنی مسلم ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، جب کہ تنظیم کے مرکزی مذاکرات کار خلیل الحية کو اس دھڑے سے جوڑا جاتا ہے جس نے ایران کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط کیا۔