اترا کھنڈ کے پوڑی ضلع میں تیندوے کی دہشت، 30 اسکولوں کی چھٹیوں میں توسیع

Wait 5 sec.

پوڑی گڑھوال ضلع کے ناگ دیو رینج علاقے میں تیندوے کی مسلسل سرگرمیوں کی وجہ سے گاؤں والوں میں زبردست خوف و ہراس پایا جارہا ہے۔ اس دوران صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے محکمہ تعلیم نے بچوں کی حفاظت کے پیش نظر بڑا فیصلہ کیا ہے۔ تیندوے سے متاثرہ باڑہ اور چردھار رینج کے 30 اسکولوں کی پیر اور منگل کو تعطیلات میں اضافہ کردیا ہے۔اطلاعات کے مطابق گڑھوال محکمہ جنگلات کے ناگ دیو رینج میں واقع باڑہ گاؤں میں گزشتہ15 جنوری کو تیندوے نے نیپالی نزاد ایک شخص پر حملہ کرکے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ اس واقعے کے بعد سے علاقے میں لگاتار تیندوے کاخطرہ محسوس کیا جارہا ہے۔ گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ دن ڈھلنے اور اندھیرا ہونے کے بعد تیندے کی موجودگی سے لوگوں کا گھر سے نکلنا مشکل ہوگیا ہے۔ والدین خاص طور پر اسکول کے بچوں کی حفاظت کے بارے میں بہت فکر مند ہیں۔لکھنؤ: شادی میں تیندوے کا ہنگامہ، سڑکوں پر بھاگے لوگ، خوف و دہشت کے سائے میں گزرے 8 گھنٹےصورتحال کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے محکمہ تعلیم نے پہلے جمعہ اور ہفتہ کو ان اسکولوں میں تعطیل کا اعلان کیا تھا لیکن تیندوے کی سرگرمیوں میں کوئی کمی نہ آنے کی وجہ سے اب احتیاطی تدابیر کے طور پر چھٹی پیر اور منگل تک بڑھا دی گئی ہے۔چیف ایجوکیشن آفیسر (سی ای او) پوڑی، ناگیندر برتوال نے بتایا کہ طلباء کی حفاظت محکمہ کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقے کی صورتحال مکمل طور پر محفوظ ہونے تک کوئی خطرہ مول نہیں لیا جائے گا۔ اسی سلسلے میں باڑہ اور چردھار علاقے کے تمام 30 اسکولوں کو عارضی طور پر بند رکھنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ باڑہ علاقہ میں گورنمنٹ پرائمری اسکول باڑہ، چاند کھیت، قمر گڑھ اوجلی، پابو تلہ، پنیا، پسولی، سنڈی، جونیئر ہائی اسکول گھڑدوڑی، ہائی اسکول کیمدھار باڑہ، گورنمنٹ انٹر کالج اوجلی اور سرسوتی ودیا مندر گھڑدوڑی شامل ہیں۔غازی آباد میں تیندوے کی دہشت! وکلا کی ہڑتال، عدالتی امور معطلاس دوران چردھار علاقہ کے تحت گورنمنٹ پرائمری اسکول اونی، بمٹھی، چردھار، چھت کوٹ، گجیندر پور، گرگاؤں، کیسندر، کیارک، سرولی، افلڈا، جونیئر ہائی اسکول گرگاؤں اور چھت کوٹ، ہائی اسکول چردھار اور افلڈہ، اور گورنمنٹ انٹر کالج کیارک میں بھی دو دنوں تک چھٹی رہے گی۔ دریں اثناء محکمہ جنگلات کی ٹیم تیندوے کی نگرانی میں مصروف ہے اور پنجرے لگانے سمیت دیگر حفاظتی اقدامات پر غور کر رہی ہے۔ گاؤں والوں نے انتظامیہ سے علاقے میں حالات معمول پر لانے کے لیے فوری اور ٹھوس کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔