چنئی: تمل ناڈو کے کرور ضلع میں گزشتہ سال پیش آئے دل دہلا دینے والے بھگدڑ معاملے کی جانچ کے سلسلے میں مرکزی تفتیشی بیورو نے تملگا ویٹری کزگم کے رہنما اور معروف فلمی اداکار وجے کو پیر کے روز نئی دہلی میں پیش ہونے کے لیے طلب کیا ہے۔ یہ پوچھ تاچھ اس سیاسی جلسے سے متعلق ہے جو ستائیس ستمبر دو ہزار پچیس کو کرور میں منعقد ہوا تھا اور جس کے دوران شدید بدنظمی کے باعث جان لیوا بھگدڑ مچ گئی تھی۔سی بی آئی کے مطابق اس معاملے میں تفتیش کو تیز کر دیا گیا ہے اور اب توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ جلسے کے انعقاد، بھیڑ کے نظم و نسق اور حفاظتی انتظامات میں کہاں اور کیسے کوتاہیاں ہوئیں۔ اس واقعے میں اکتالیس افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے، جس کے بعد ملک بھر میں عوامی اجتماعات میں سلامتی اور انتظامی تیاریوں پر سنجیدہ سوالات اٹھے تھے۔تحقیقاتی ایجنسی اس پورے معاملے کی نگرانی سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج اجے رستگی کی سربراہی میں قائم ایک نگران کمیٹی کے تحت کر رہی ہے۔ اس کمیٹی کی ہدایات کے مطابق سی بی آئی ذمہ داری کے تعین، منصوبہ بندی کی خامیوں اور اس تسلسل کا جائزہ لے رہی ہے جس نے اس افسوس ناک حادثے کو جنم دیا۔اس سے قبل بارہ جنوری کو وجے سے دہلی میں تقریباً چھ گھنٹے طویل پوچھ تاچھ کی گئی تھی، جس میں جلسے کی تیاری، ان کی آمد کے وقت، انتظامیہ سے رابطے اور رضاکاروں کے کردار سے متعلق سوالات شامل تھے۔ اب دوبارہ طلبی کا مقصد بعض نکات کی مزید وضاحت اور دیگر بیانات سے حاصل ہونے والی معلومات کا تقابل بتایا جا رہا ہے۔تحقیقات کے دوران سی بی آئی نے گزشتہ ماہ ٹی وی کے کے سینئر عہدیداران سے بھی پوچھ تاچھ کی تھی، جن میں پارٹی کے جنرل سیکریٹری بوسی آنند، الیکشن مینجمنٹ ڈویژن کے جنرل سیکریٹری آدھو ارجن، جوائنٹ جنرل سیکریٹری نرمل کمار اور کرور ضلع سیکریٹری متھیازگن شامل ہیں۔ ان سب کے بیانات ریکارڈ کیے گئے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ جلسے کی تنظیم کس کے تحت ہوئی، انتظامات کیسے کیے گئے اور حفاظتی تقاضے کس حد تک پورے کیے گئے تھے۔یاد رہے کہ مذکورہ جلسے میں وجے کی آمد طے شدہ وقت سے تاخیر سے ہوئی تھی، جس کے باعث مقام پر موجود بھیڑ میں بے چینی بڑھی اور حالات بگڑتے چلے گئے۔ حادثے کے بعد وجے نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کے لیے فی خاندان بیس لاکھ روپے کی مالی مدد کا اعلان کیا تھا اور بعض اہل خانہ سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے گفتگو بھی کی تھی۔