ہم چکرویوہ میں ابھیمنیو کی طرح اپنی جنگ لڑ رہے ہیں: شنکراچاریہ ایوی مکتیشورانند

Wait 5 sec.

پریاگ راج میں جاری ماگھ میلے کے دوران، سوامی اوی مکتیشورانند کو سنگم میں داخل ہونےسے روکنے   یا نہ جانے پر ایک تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ جس  کے بعد شنکراچاریہ احتجاج کرنے  بیٹھ گئے ہیں۔ یہ معاملہ اب سیاسی طور پر گرم ہوگیا ہے۔ دریں اثنا، سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے شنکراچاریہ سوامی ایوی مکتیشورانند سے فون پر بات کرکے ان کی خیریت دریافت کی۔سوامی ایوی مکتیشورانند یہ ان سے یہ کہتے ہوئے سنائی دے رہے ہیں، "ہم چکرویوہ  میں ابھیمنیو کی طرح اپنی جنگ لڑ رہے ہیں۔" انہوں نے مزید کہا کہ گنگا میں نہانا ہندو بچوں کا پیدائشی حق ہے لیکن انہوں نے ہمیں سنگم میں نہانے کے حق سے انکار کر دیا ۔  اکھلیش یادو نے سب سے پہلے سوامی ایوی مکتیشورانند کی خیریت دریافت کی۔ اس کے بعد اس نے کہا کہ ان لوگوں کو ان کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کرنا چاہیے تھا جو انہوں نے کیا ۔ اکھلیش نے مزید کہا کہ یہ بہت برے لوگ ہیں۔’اسنان‘ سے روکے جانے کے بعد بھوک ہڑتال پر شنکراچاریہ، یوگی انتظامیہ پر عائد کیے سنگین الزاماتانہوں نے سوامی سے مزید کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ ان لوگوں نے وارانسی میں مندروں کو تباہ کیا اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ انہوں نے کچھ بھی تباہ نہیں کیا۔ اس پر سوامی نے جواب دیا کہ ان لوگوں نے سب کچھ تباہ کر دیا ہے۔ اب تک وہ ہمارے ڈیڑھ سو مندروں کو تباہ کر چکے ہیں اور اب بھی تباہ کر رہے ہیں۔شنکراچاریہ سوامی اوی مکتیشورانندنے اتواریعنی 18 جنوری کو دعویٰ کیا کہ ریاستی انتظامیہ نے انہیں پریاگ راج ماگھ میلے کے دوران مونی اماوسیہ کے موقع پر سنگم ناک کی طرف جانے سے روک دیا۔ انہوں  نے الزام لگایا کہ پولیس والوں نے انہیں درمیان میں اس وقت روکا جب وہ سنگم گھاٹ جارہے تھے۔  شنکراچاریہ کے مطابق، ان کی پالکی کو درمیان میں روک دیا گیا تھا کیونکہ سینئر پولیس افسران نے مبینہ طور پر ان کے شاگردوں کے ساتھ دھکا مکی  اور بدتمیزی کی۔