پاکستان میں تیز رفتار انٹرنیٹ کی فراہمی اور ٹیلی کام سیکٹر میں فائیو جی سروس متعارف کروانے کے لیے سپیکٹرم لائسنس کی نیلامی 26 فروری کو ہو رہی ہے جس کے تحت پاکستان میں موجود ٹیلی کام کمپنیوں کو 700 میگا ہیڈز سے 3500 میگا ہیڈز کی مختلف فریکونسی کے لائسنس 15 سال کے لیے فراہم کیے جائیں گے۔ مگر کیا ملک میں تیز رفتار انٹرنیٹ کا خواب پورا کرنے کے لیے صرف سپیکٹرم لائسنس ہی جادو کی چھڑی ہے؟