واشنگٹن (15 جنوری 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شاہِ ایران کے بیٹے رضا پہلوی پر عدم اعتماد کا کھل کر اظہار کر دیا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روئٹرز کے ساتھ اوول آفس میں خصوصی انٹرویو میں رضا پہلوی کی ایران میں عوامی حمایت پر سوال اٹھا دیا، انھوں نے کہا ایران کی مذہبی حکومت گر سکتی ہے، مگر پہلوی کی کامیابی کے بارے میں مجھے یقین نہیں۔انھوں نے کہا احتجاج کے باعث تہران کی حکومت گرنے کا امکان ہے، حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی نظام ناکام ہو سکتا ہے، چاہے وہ حکومت گرتی ہے یا نہیں، یہ بہت دل چسپ وقت ہوگا۔صدر ٹرمپ نے رضا پہلوی کے اقتدار سنبھالنے کے لیے ایران میں حمایت حاصل کرنے کے امکان پر غیر یقینی ظاہر کی، اور کہا مجھے نہیں معلوم کہ ان کا ملک ان کی قیادت قبول کرے گا یا نہیں، اگر ایسا ہو تو مجھے اس پر اعتراض نہیں ہوگا، مجھے نہیں معلوم رضا پہلوی ملک میں کیسی کارکردگی دکھائیں گے، ہم ابھی اس مرحلے تک نہیں پہنچے۔صدر ٹرمپ کو ایران میں پھانسیاں روکنے کی یقین دہانی کرا دی گئیایران میں رضا پہلوی کی مقبولیت اور قیادت کی اہلیت پر سوال اٹھاتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ اچھے انسان تو دکھائی دیتے ہیں، مگر واضح نہیں ہے کہ وہ ایران کے اندر عوامی حمایت حاصل کر پائیں گے یا نہیں۔خیال رہے کہ رضا پہلوی ایران کے آخری بادشاہ محمد رضا شاہ پہلوی کے بیٹے ہیں جنھیں 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد اقتدار سے ہٹا دیا گیا تھا، رضا پہلوی امریکا میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ ایران میں ہوئے حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران بیرون ملک ایرانی اپوزیشن کی ایک نمایاں آواز بن کر سامنے آئے ہیں۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران میں ابھی صورت حال اس مقام تک نہیں پہنچی کہ نئی قیادت کے حوالے سے کوئی فیصلہ کیا جا سکے، اگر ایران کے عوام کسی متبادل قیادت کو قبول کرتے ہیں تو امریکا کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا، لیکن نئی قیادت سے متعلق فیصلہ ایران کے اندر سے آنا چاہیے۔