ایران میں بحران کے درمیان ہندوستانی طلباء فکر مند، کشمیری سرپرستوں نے مودی حکومت سے مانگی مدد

Wait 5 sec.

ایران میں حالات بدستور کشیدہ ہیں۔ جہاں کئی دنوں سے بڑے پیمانے پر مظاہرے جاری ہیں وہیں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر ممکنہ حملے کے بیان نے مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کو ہوا دی ہے۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق مملکت میں حالات اس قدر نازک ہو چکے ہیں کہ ایران نے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں۔ اس صورتحال کا براہ راست اثر وہاں زیر تعلیم غیر ملکی طلباء پر پڑتا نظر آرہاہے جن میں بڑی تعداد میں ہندوستانی طلباء بالخصوص کشمیر کے طلباء شامل ہیں۔ایران میں زیرتعلیم ہندوستانی طلبائ کی حفاظت کے حوالے سے ان اہل خانہ بہت فکرمند ہیں۔ جیسے جیسے حالات خراب ہو رہے ہیں، طلباء کے اہل خانہ کوکسی ناخوشگوار واقعہ کا خوف ستانے لگا ہے۔ اس تشویش کے درمیان ایران میں زیر تعلیم کشمیری طلباء کے والدین نے مرکزی حکومت سے اپنے بچوں کی بحفاظت واپسی کی اپیل کی ہے۔ایران میں معاشی بحران کے خلاف جاری مظاہرہ 21 صوبوں تک پہنچاسری نگر کے پریس انکلیو میں جمع ہوئے سرپرستوں نے مرکزی حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں طلباء کا وہاں رہنا محفوظ نہیں ہے اور حکومت کو جلد از جلد ان کے انخلا کا انتظام کرنا چاہیے۔ ایک سرپرست نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم وزیر اعظم، وزیر خارجہ، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ اور لیفٹیننٹ گورنر سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ایران سے ہمارے بچوں کے محفوظ انخلاء کو یقینی بنائیں۔سرپرستوں نے یوکرین اور دیگر بحران زدہ ممالک سے پہلے کئے گئے کامیاب امدادی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے مرکزی حکومت کی صلاحیتوں پر اعتماد کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے پہلے بھی مشکل حالات میں طلبہ کو محفوظ نکالا ہے اور اس بار بھی ایسے ہی اقدامات کئے جانے چاہئیں۔ڈونالڈ ٹرمپ کے بیانات پر ایران برہم، امریکہ کے خلاف اقوامِ متحدہ کو خطسرپرستوں کا کہنا ہے کہ تہران میں ہندوستانی سفارت خانے نے ایران میں زیر تعلیم طلباء کو خود ہی ملک چھوڑنے کی صلاح دی ہے۔ سفارتخانے کی جانب سے طلباء سے اپنے والدین سے رابطہ کرنے اور سفرکا بندوبست خود کرنے کے لئے کہا ہے۔ حالانکہ سرپرستوں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں یہ آسان نہیں ہے۔ ایران میں انٹرنیٹ اور مواصلاتی خدمات پر پابندیوں نے طلباء سے رابطہ مشکل بنا دیا ہے۔ کئی والدین نے آئی ایس ڈی کال کے ذریعے کسی طرح اپنے بچوں سے بات کرپارہے ہیں لیکن یہ رابطہ بھی بہت محدود ہے۔ایک کشمیری طالب علم کی والدہ نے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں انٹرنیٹ کی بندش نے سفری ٹکٹ بھیجنا تقریباً ناممکن بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم ٹکٹ بک بھی کر لیتے ہیں تو انٹرنیٹ بند ہونے کی وجہ سے بچوں تک اسے پہنچانا مشکل ہے۔ ایسے حالات میں طلباء کے لیے خود سفر کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ سرپرستوں کا کہنا ہے کہ ایسے بحران کے وقت انفرادی سطح پر انتظامات کرنے کے بجائے حکومت کو باضابطہ طور پر طلباء کو نکالنا چاہیے، جیسا پہلے کیا گیا تھا۔ ایک اور فکرمند سرپرست نے کہا کہ حکومت کو بلا تاخیر ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم بہت پریشان ہیں اور چاہتے ہیں کہ حکومت بچوں کی اُسی طرح محفوظ واپسی یقینی بنائے جیسے اس نے پہلے بحران کے وقت کیا تھا۔