ٹرمپ نے ایران پر حملے کا ارادہ آخری لمحوں میں بدل دیا، برطانوی اخبار کا دعویٰ

Wait 5 sec.

لندن (15 جنوری 2026): برطانوی اخبار دی ٹیلیگراف نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کا اپنا ارادہ آخری لمحوں میں بدل دیا ہے۔دی ٹیلیگراف کی رپورٹ کے مطابق مشاہدہ کیا گیا ہے کہ خلیج فارس کی ریاستوں کی آخری لمحات میں کی گئی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر حملے سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔سعودی عرب، قطر اور عمان نے امریکا کے ساتھ ہنگامی مذاکرات کیے جس کا مقصد ڈونلڈ ٹرمپ کو فوجی کارروائی مؤخر کرنے اور ایران کو نیک نیتی ظاہر کرنے کا موقع دینے پر قائل کرنا تھا۔یہ بھی پڑھیں: ایران پر کیسے حملہ کیا جائے؟ پینٹاگون نے ٹرمپ کو آپشنز پیش کر دیےڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی مظاہرین سے کہا تھا کہ مدد پہنچنے والی ہے اور دھمکی دی تھی کہ اگر مزید ہلاکتیں ہوئیں تو وہ حملے کریں گے۔ تاہم بدھ کے روز وہ فوری کارروائی سے پیچھے ہٹتے دکھائی دیے اور کہا کہ انہیں یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ ایران میں قتل و غارت رُک رہی ہے۔اس سے کچھ دیر قبل ایران نے ایک مظاہرین کی طے شدہ سزائے موت منسوخ کر دی جبکہ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ پھانسی دینے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ذرائع نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ خلیجی ممالک نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کو موقع دینے پر قائل کرنے کیلیے طویل اور آخری لمحات کی سفارتی کوششیں کیں اور خطے میں شدید ردعمل کے بارے میں خبردار کیا۔ذرائع نے بتایا کہ یہ کوششیں خطے میں مزید کشیدگی کو روکنے کیلیے ایک بے خواب رات تھی، حاصل شدہ اعتماد اور موجودہ مثبت فضا کو مستحکم کرنے کیلیے مذاکرات جاری ہیں۔فنانشل ٹائمز کے مطابق ترکیہ اور مصر سمیت دیگر ممالک نے بھی امریکی صدر پر تحمل مزاجی اختیار کرنے پر زور دیا اور ایران کے پڑوسی ممالک اور عالمی سطح پر تیل و گیس کی قیمتوں پر پڑنے والے ممکنہ اثرات سے خبردار کیا۔