کیرالہ : بھارت کے مقامی گاؤں میں بھگوان کی خوشی کیلیے دو خواتین کو قربانی کیلیے ذبح کرنے والے دلخراش واقعے نے پورے ملک کو عجیب کشمکش میں مبتلا کردیا۔بھارت کی جنوبی ریاست کیرالہ کے ایک دور افتادہ گاؤں میں دولت اور خوشحالی حاصل کرنے کے لیے ایک جوڑے نے مبینہ طور پر دو خواتین کو ایک رسم کے تحت بھگوان کی خوشی کیلیے قربان کر دیا۔بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق واردات کے بعد کالے جادو کی رسم کے طور پر برکت کے لیے مقتولہ دونوں خواتین کے خون کا گھر کی دیواروں اور فرش پر چھڑکاؤ بھی کیا گیا۔پولیس کے مطابق مقتولہ خواتین پدما اور روزلن سڑکوں پر لاٹری ٹکٹ فروخت کرکے گزر بسر کیا کرتی تھیں، غربت اور تنہائی کا شکار یہ خواتین توہم پرست ذہنوں کے لیے آسان شکار ثابت ہوئیں۔رپورٹ کے مطابق معاملہ اس وقت منظرِ عام پر آیا جب دو خواتین کی گمشدگی کی شکایات طویل عرصے تک حل نہ ہوسکیں، تحقیقات پیچیدہ تھیں، تاہم موبائل فون ڈیٹا، کال ریکارڈز اور ٹاور لوکیشنز نے بالآخر پولیس کو ایک ایسے انکشاف تک پہنچا دیا جس نے تفتیشی افسران کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔پولیس کے مطابق اصل حقیقت یہ تھی کہ دونوں خواتین کو کالے جادو اور توہم پرستی کی بنیاد پر انسانی قربانی کے طور پر قتل کیا گیا تھا۔مقامی پولیس کے مطابق ایلنتھور نامی گاؤں کے میاں بیوی بھگوال سنگھ اور اس کی اہلیہ لیلیٰ نے مالی تنگی اور خوشحالی کی ہوس میں ایک ایجنٹ محمد شفیع کے مشورے پر عمل کیا۔ شفیع نے خود کو عامل ظاہر کرکے جوڑے کو قائل کیا کہ اگر وہ دولت چاہتے ہیں تو انسانوں کی قربانی دینا ہوگی۔پولیس کا کہنا ہے کہ پہلے روزلن کو قتل کیا گیا، اس کے جسم کے ٹکڑے کیے گئے اور ایک خوفناک رسم کے تحت اس کا خون گھر کی دیواروں اور فرش پر چھڑکا گیا۔ بعد ازاں لاش کے ٹکڑوں کو گھر کے عقب میں دفن کر دیا گیا۔جب اس قربانی کے بعد بھی حالات بہتر نہ ہوئے تو ملزمان نے دوبارہ شفیع سے رابطہ کیا، جس پر اس نے ایک اور انسانی قربانی کی ہدایت دی۔ یوں ستمبر میں پدما کو بھی بہلا پھسلا کر اسی انجام تک پہنچا دیا گیا۔پولیس نے ملزمان کے گھر کے پچھلے حصے سے کھودے گئے چار گڑھوں میں سے دونوں خواتین کے جسمانی اعضا برآمد کیے۔ ابتدائی طور پر شواہد منتشر تھے، تاہم شفیع کی گرفتاری نے پوری کہانی کو بے نقاب کر دیا۔پولیس کے مطابق تینوں ملزمان نے جرم کا اعتراف کرلیا ہے اور انہیں 12 اکتوبر کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ پولیس اس بات کی بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا اس نوعیت کے مزید واقعات میں بھی یہ گروہ ملوث رہا ہے یا نہیں۔پولیس کمشنر کے مطابق قتل کی وارداتیں توہم پرستی پر مبنی انسانی قربانی کا حصہ تھے، تاہم پولیس تمام پہلوؤں اور زاویے سے تحقیقات کر رہی ہے۔یہ ہولناک واقعہ اس بات کو عیاں کرتا ہے کہ بھارت میں اس جدید دور میں بھی توہم پرستی، کالا جادو اور اندھے عقائد آج تک زندہ ہیں۔ اس سے قبل ماضی میں بھی کم سن بچوں اور کمزور طبقات کی قربانی کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں، بھارتی معاشرہ آج بھی توہم پرستی کے اندھیروں سے باہر نہیں نکل سکا۔