راجستھان کے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس کے سینئر رہنما اشوک گہلوت نے جمعرات کو الزام عائد کیا کہ ریاست میں ووٹر فہرست کی خصوصی گہری نظرثانی کے عمل کے دوران نامعلوم افراد کی جانب سے بڑی تعداد میں فارم سات جمع کرائے گئے ہیں، جن کا مقصد کانگریس کی حمایت کرنے والے ووٹروں کے نام فہرست سے حذف کرانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے اور پارٹی کارکنوں کو پوری طرح چوکس رہنا چاہیے تاکہ کسی بھی جائز ووٹ کا حق متاثر نہ ہو۔اشوک گہلوت کے مطابق ووٹر فہرست میں نام حذف کرانے کے لیے اعتراض درج کرانے کی جمعرات کو آخری تاریخ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریاست کے مختلف حصوں سے ایسی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ غیر شناخت شدہ افراد بڑی تعداد میں فارم سات داخل کرا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ عمل جمہوری نظام کے لیے تشویش کا باعث ہے اور اس سے انتخابی شفافیت پر سوال کھڑے ہوتے ہیں۔کانگریس کے سینئر رہنما نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں پارٹی کے تمام کارکنوں اور بوتھ سطح کے صدور سے اپیل کی کہ وہ اس پورے عمل پر گہری نظر رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر سطح پر مستعدی ضروری ہے تاکہ کسی بھی شہری کا آئینی حق غیر منصفانہ طریقے سے سلب نہ ہو۔ ان کے مطابق ووٹر فہرست کی درستگی جمہوریت کی بنیاد ہے اور اس میں کسی بھی طرح کی لاپروائی ناقابل قبول ہے۔اشوک گہلوت نے انتظامیہ کو بھی مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ افسران کو آئین کے مطابق کام کرنا چاہیے اور کسی بھی دباؤ یا سیاسی مداخلت سے خود کو دور رکھنا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کسی نے غیر قانونی طریقوں کو اختیار کیا تو بالآخر اسے قانون کا سامنا کرنا پڑے گا۔ گہلوت نے یہ بھی کہا کہ ان کے بقول موجودہ صورتحال سیاسی گھبراہٹ کی علامت ہے اور یہ ظاہر کرتی ہے کہ حکمراں جماعت کے دن گنے جا چکے ہیں۔ ان کے مطابق عوامی رائے کو متاثر کرنے کی ایسی کوششیں جمہوریت کو کمزور کرتی ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ ہر جائز ووٹر کا نام فہرست میں برقرار رہے اور انتخابی عمل شفاف انداز میں مکمل ہو۔