47 لاکھ نوجوانوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند

Wait 5 sec.

کینبرا (16 جنوری 2026): آسٹریلیا میں 16 سال سے کم عمر نوجوانوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کے بعد، سوشل میڈیا کمپنیوں نے ملک میں نوجوانوں کے 47 لاکھ اکاؤنٹس بند کر دیے۔یہ کارروائی 16 سال سے کم عمر بچوں پر دنیا کی اس نوعیت کی پہلی پابندی کے نفاذ کے صرف ایک ماہ بعد کی گئی ہے، جو اس اقدام کے تیز رفتار اور وسیع اثرات کی عکاسی کرتی ہے۔العربیہ اردو کے مطابق آسٹریلیا میں انٹرنیٹ پر ای سیفٹی کے ادارے نے بتایا کہ پلیٹ فارمز نے اب تک 10 دسمبر 2025 کو نافذ ہونے والے قانون کی تعمیل میں 16 سال سے کم عمر صارفین کے تقریباً 4.7 ملین اکاؤنٹس ہٹا دیے ہیں۔رائٹرز کے مطابق بعض پلیٹ فارمز نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے مقررہ تاریخ سے چند ہفتے پہلے ہی ان اکاؤنٹس کو ہٹانا شروع کر دیا تھا جن پر پابندی کی شرائط لاگو ہوتی ہیں۔یہ اعداد و شمار تعمیل کے حوالے سے پہلے سرکاری ڈیٹا کی نمائندگی کرتے ہیں اور یہ اشارہ دیتے ہیں کہ پلیٹ فارمز اس قانون کی پاسداری کے لیے اہم اقدامات کر رہے ہیں۔ اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والی کمپنی کو 49.5 ملین آسٹریلوی ڈالر (33 ملین امریکی ڈالر) تک جرمانے کا سامنا ہو سکتا ہے، تاہم اس میں بچوں یا ان کے والدین کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا۔واضح رہے کہ یہ تعداد آبادی کے اعداد و شمار کی بنیاد پر قانون کے اجرا سے قبل لگائے گئے اندازوں سے تجاوز کر گئی ہے۔ اس سے قبل میٹا نے انکشاف کیا تھا کہ اس نے انسٹاگرام، فیس بک اور تھریڈز سے نابالغوں کے تقریباً 5 لاکھ 50 ہزار اکاؤنٹس ہٹائے ہیں۔