ایران میں ہندوستان کے ایک انجینئر بیٹے کو حراست میں لیے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ایران کے ذریعہ مبینہ طور پر ضبط کیے گئے ایک تیل ٹینکر کے پائلٹ ٹیم میں شامل 16 اراکین میں ایک انجینئر بھی ہے۔ اس انجینئر کے والد مکیش مہتا نے ہندوستانی افسران سے گزارش کی ہے کہ بیٹے کو ہندوستان لانے کے لیے مداخلت کریں۔ مکیش مہتا کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا کیتن دبئی واقع پرائم ٹینکر ایل ایل سی کے ذریعہ آپریٹ ایم ٹی ویریئنٹ رولر نامی تیل ٹینکر پر بطور انجینئر کام کر رہا تھا۔ اب اس کو حراست میں لیے جانے کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔مکیش مہتا کے مطابق یہ جہاز گزشتہ ماہ ایران کے بندر عباس بندرگاہ پر روکا گیا تھا۔ اس کے بعد ایرانی افسران نے کیتن اور دیگر پائلٹ ٹیم کے اراکین کو حراست میں لے لیا۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ کیتن کے حراست میں لیے جانے کی خبر سننے کے بعد سے ان کی فیملی مستقل خوف اور فکر میں مبتلا ہے۔ وہ زور دے کر کہتے ہیں کہ ان کا بیٹا صرف ایمانداری سے کام کرنے کی کوشش کر رہا تھا، اس نے کوئی جرم یا قانون کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔مکیش مہتا نے حکومت ہند، وزیر اعظم نریندر مودی، وزارت خارجہ اور شپنگ کے ڈائریکٹر جنرل سے اس معاملے میں فوری مداخلت کرنے اور اپنے بیٹے و دیگر پائلٹ ٹیم کے اراکین کی بہ حفاظت رہائی یقینی بنانے کے لیے فوراً سفارتی کارروائی کرنے کی اپیل کی ہے۔ انھوں نے اس معاملہ کو انسانی بنیاد پر دیکھنے اور ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات کا استعمال کر کے اپنے شہریوں کو بہ حفاظت واپس لانے کی گزارش بھی کی ہے۔ یہ واقعہ بین الاقوامی سمندری سیکورٹی اور پائلٹ ٹیم کے اراکینب کے حقوق پر بھی سوال اٹھاتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب وہ امن کے ساتھ تجارتی سرگرمیوں میں مصروف ہوں۔ مکیش مہتا کو امید ہے کہ حکومت اس بحران کے وقت میں فیملی کا ساتھ دے گی اور ان کے بیٹے کی بہ حفاظت ملک واپسی یقینی بنائے گی۔