(17 جنوری 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصر اور ترکیہ کے صدور کو غزہ بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس کی جانب سے منظر عام پر لائے گئے نام نہاد بورڈ آف پیس کا مقصد محصور فلسطینی علاقے میں اسرائیل کی نسل کشی کی جنگ ختم کرنے کے امریکی منصوبے کے تحت غزہ کے عارضی نظام حکومت کی نگرانی کرنا ہے۔ترکیہ حکام نے تصدیق کی ہے کہ صدر رجب طیب اردوان کو ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک خط موصول ہوا ہے جس میں انہیں اس بورڈ کا بانی رکن بننے کی دعوت دی گئی ہے۔یہ بھی پڑھیں: بورڈ آف پیس میں شامل 2 بڑی کاروباری شخصیات کون ہیں؟دوسری جانب مصری وزیر خارجہ نے ایک پریس کانفرنس میں تصدیق کی کہ مصر اس وقت امریکی صدر کی جانب سے صدر عبدالفتاح السیسی کو بھیجی گئی ایک دعوت کا جائزہ لے رہا ہے جس میں انہیں بورڈ میں شامل ہونے کو کہا گیا ہے۔گزشتہ روز وائٹ ہاؤس نے بورڈ آف پیس کے کئی ارکان کے ناموں کا اعلان کیا جن میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر شامل ہیں۔واضح رہے کہ امریکی صدر خود اس بورڈ کی سربراہی کریں گے۔بورڈ کا قیام ٹرمپ کے اس منصوبے کا حصہ ہے جو انہوں نے غزہ جنگ کے خاتمے کیلیے پیش کیا۔ منصوبے کے مطابق ایک فلسطینی ٹیکنوکریٹ باڈی اس بین الاقوامی بورڈ کے زیر نگرانی کام کرے گی جو عبوری دور کے دوران غزہ کے نظم و نسق کی نگرانی کرے گا۔واضح رہے کہ غزہ بورڈ آف پیس کیلیے نامزد زیادہ تر افراد اسرائیل اور اس کی غزہ جنگ کے بڑے حامی رہے ہیں۔ فلسطینیوں کا سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ ارکان انصاف، تعمیر نو اور فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت کے بجائے غلبے اور کنٹرول کو ترجیح دے سکتے ہیں۔