ٹریڈ سرپلس: ’ہم نے چین کے سامنے سوچ سمجھ کر خودسپردگی کر دی‘، مودی حکومت پر کانگریس کا تلخ تبصرہ

Wait 5 sec.

چین نے ’ٹریڈ سرپلس‘ سے متعلق اپنے تازہ اعلان میں بتایا ہے کہ یہ 2025 میں تقریباً 1.2 ٹریلین ڈالر رہا، جو کہ ایک نیا ریکارڈ ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ چین بڑی تعداد میں اپنے سامان ہندوستان کو بھی برآمد کرتا ہے، اور اس تعلق سے کانگریس نے مودی حکومت پر آج تلخ تبصرہ کیا ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش کا کہنا ہے کہ ’’ہم نے چین کے سامنے سوچ سمجھ کر خود سپردگی کی ہے۔‘‘"चीन पर सब लुटा दूंगा" pic.twitter.com/76RXRFn7MP— Congress (@INCIndia) January 13, 2026یہ بیان جئے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر دیا ہے۔ انھوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’چین نے ابھی اعلان کیا ہے کہ 2025 میں اس کا ٹریڈ سرپلس ریکارڈ 1.2 ٹریلین ڈالر رہا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تنہا ہندوستان کے ساتھ چین کا ٹریڈ سرپلس مجموعی سرپلس کا تقریباً 10 فیصد تھا۔‘‘ انھوں نے مزید لکھا ہے کہ ’’یہ کوئی حیرانی بات نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ ہم نے چین کے سامنے سوچ سمجھ کر خود سپردگی کی ہے۔ اس کی تازہ مثال ٹھیک ایک دن پہلے سامنے آئی، جب بی جے پی اور آر ایس ایس کے لیڈران ایک اعلیٰ سطحی چینی کمیونسٹ پارٹی کے نمائندہ وفد کے ساتھ میل جول بڑھاتے نظر آئے۔‘‘قابل ذکر ہے کہ برآمدگی اور درآمدگی کے درمیان کے فرق کو ’ٹریڈ سرپلس‘ کہتے ہیں۔ دنیا کی دوسری سب سے بڑی معشت چین کا 2025 میں درج کردہ ’ٹریڈ سرپلس‘ گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ ہے۔ مہنگائی کو ایڈجسٹ کرنے کے بعد بھی یہ دنیا کے کسی بھی ملک کا درج کیا گیا اب تک کا سب سے بڑا ٹریڈ سرپلس ہے۔ چین کے جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز کے ڈاٹا کے مطابق تنہا دسمبر ماہ میں ہی چین نے 114.14 بلین ڈالر (تقریباً 10.31 لاکھ کروڑ روپے) کا سرپلس کمایا۔ یہ چین کی تاریخ کا تیسرا سب سے کامیاب مہینہ رہا۔بی جے پی نے گرگٹ کو بھی ایک رَنگ سکھا دیا، جنھیں چین کو ’لال آنکھیں‘ دکھانی تھیں وہ لال قالین بچھا رہے: کانگریسغور کرنے والی بات یہ ہے کہ چین کی کرنسی ’رین منبی‘ فی الحال کافی کمزور حالت میں ہے۔ اس سے بیرون ملکی خریداروں کے لیے چینی سامان سستا ہو گیا ہے، جبکہ چین کے لیے باہر سے سامان منگانا مہنگا پڑ رہا ہے۔ اس کے علاوہ چین کے رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں آئی زبردست گراوٹ نے وہاں کے عام کنبوں کی بچت ختم کر دی ہے۔ لوگ اب کار اور کاسمیٹکس جیسے بیرون ملکی سامان نہیں خرید پا رہے۔ گھریلو طلب کم ہونے کے سبب فیکٹریوں میں تیار مال اب کثیر مقدار میں برآمد کیا جا رہا ہے۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے ہی آئی ایم ایف (انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ) کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے گزشتہ ماہ بیجنگ میں تنبیہ دی تھی۔ انھوں نے کہا تھا کہ چین اب اتنا بڑا ہو چکا ہے کہ وہ صرف برآمدات کے دَم پر اپنی جی ڈی پی نہیں بڑھا سکتا۔ انھوں نے مشورہ دیا کہ چین کو اپنی کرنسی مضبوط کرنی چاہیے اور گھریلو صارفیت بڑھانے پر توجہ دینی چاہیے۔ اگر چین ایسا نہیں کرتا تو دنیا بھر میں ’ٹریڈ وار‘ (تجارتی جنگ) کی حالت پیدا ہو سکتی ہے۔بہرحال، چین کا موجودہ سرپلس تاریخ کے پچھلے ریکارڈس سے بہت آگے ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق 1993 میں جاپان کا سرپلس آج کے پس منظر میں 214 بلین ڈالر تھا، جبکہ 2017 میں جرمنی کا ریکارڈ 264 بلین ڈالر رہا تھا۔ ’ٹریڈ سرپلس‘ کے معاملہ میں چین ان ممالک کے مقابلے 3 سے 5 گنا آگے نکل چکا ہے۔