امریکا نے پاکستان سمیت 75 ملکوں کیلئے امیگرنٹ ویزا پراسیسنگ روک دی

Wait 5 sec.

واشنگٹن: امریکا نے پاکستان سمیت 75 ملکوں کے لیے امیگرنٹ ویزا پراسیسنگ روک دی۔اے آر وائی نیوز کے مطابق امریکا نے 75 ملکوں کے لیے امیگرنٹ ویزا پراسس غیر معینہ مدت کے لیے منجمد کیا ہے، فراڈ، جانچ پڑتال، حکومت پر بوجھ بننے کے خدشات کی وجہ سے فیصلہ کیا گیا ہے۔فہرست میں افغانستان، البانیہ، الجزائر، انٹیگوا اور باربوڈا، آرمینیا، آذربائیجان شامل ہیں، بہاماس، بنگلادیش، بارباڈوس، بیلاروس، بیلیز، بھوٹان، بوسنیا فہرست میں موجود ہیں۔ویزا پراسیسنگ منجمد ممالک کی فہرست میں برازیل، برما، کمبوڈیا، کیمرون، کیپ وردے، کولمبیا، ک کیوبا، جمہوریہ کانگو، ڈومینیکا، مصر، اریٹیریا، ایتھوپیا،فجی، گیمبیا،جارجیا، گھانا، گریناڈا، گوئٹے مالا موجود ہیں۔فہرست میں گنی، ہیٹی، ایران، عراق، جمیکا، اردن، قازقستان، کوسوو،کویت، کرغزستان شامل ہیں، لاؤس، لبنان، لائبیریا، لیبیا، مقدونیہ، مالدووا، منگولیا، مونٹی نیگرو، مراکش، نیپال بھی فہرست میں موجود ہیں۔نائیجیریا، نکاراگوا، کانگو، روس، روانڈا، سینٹ کٹس اینڈ نیوس، سینٹ لوسیا، سینٹ ونسنٹ اینڈ دی گریناڈینز، سینیگال، سیرالیون، صومالیہ، سوڈان، شام، تنزانیہ، تھائی لینڈ، ٹوگو، تیونس، یوگنڈا، یورا گوئے، ازبکستان، یمن بھی فہرست میں شامل ہیں۔واضح رہے کہ امریکا نے رواں سال اب تک ایک لاکھ افراد کے ویزے منسوخ کردیے ہیں، منسوخ کیے گئے ویزوں میں 8 ہزار ویزے طلبا کے ہیں جب کہ 2500 ویزے ایسے افراد کے ہیں جنہوں نے کسی نہ کسی طریقے سے امریکی قانون کی خلاف ورزی کی۔امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق رواں سال اب تک 100,000 سے زائد ویزے منسوخ کیے جاچکے ہیں، جن میں تقریباً 8 ہزار طلبہ ویزے اور 2 ہزار 500 خصوصی کام کے اجازت نامے شامل ہیں۔ حکام کا کہنا تھا کہ یہ کارروائیاں ایسے غیر ملکی شہریوں کے خلاف کی جا رہی ہیں جن کے خلاف مجرمانہ ریکارڈ یا قانونی خلاف ورزیوں کے شواہد موجود ہیں۔محکمہ خارجہ نے اپنے سرکاری ایکس اکاؤنٹ پر بیان میں کہا کہ امریکا کو محفوظ رکھنے کے لیے ملک بدری (ڈی پورٹیشن) اور ویزا منسوخی کی کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں امیگریشن اور ویزا قوانین میں سختی کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جہاں اب ویزا ہولڈرز کے امریکا میں داخلے کے بعد بھی نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ گرفتاری، سزا یا دیگر قانونی معاملات کی نشاندہی کی جاسکے۔منسوخ کیے گئے ویزوں کا تعلق مختلف کیٹیگریز سے ہے، جن میں سیاحتی، تعلیمی، ہنرمند ورک ویزے اور دیگر غیر ملکی زائرین شامل ہیں، بھارت جو امریکا کے ویزا ہولڈرز میں سب سے بڑی تعداد رکھتا ہے، اس پالیسی تبدیلی سے براہِ راست متاثر ہوا ہے۔