’انسپایرڈ گیمبٹ‘ نے امریکہ اور پاکستان کی دوستی پر لگائی مہر، کانگریس نے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی پر اٹھائے سوال

Wait 5 sec.

امریکہ اور پاکستان کے فوجی ایک ساتھ پاکستان میں ٹریننگ لے رہے ہیں۔ یہ جانکاری امریکہ کے ذریعہ آفیشیل طور پر دی گئی ہے، جس نے مودی حکومت کو ایک بار پھر کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ وزیر اعظم مودی ہمیشہ امریکی صدر ٹرمپ کو اپنا ’خاص دوست‘ بتاتے رہے ہیں، لیکن کچھ مہینوں سے امریکہ کی نظر عنایت پاکستان پر دیکھنے کو مل رہی ہے۔ امریکی صدر نے تو ہندوستان کے خلاف کچھ ایسے قدم بھی اٹھائے ہیں، جس نے حکومت ہند کی خارجہ پالیسی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ اب جبکہ ’انسپایرڈ گیمبٹ 2026‘ کے تحت امریکی و پاکستانی فوجی کی مشترکہ تربیت کی خبریں سامنے آئی ہیں، تو کانگریس حملہ آور دکھائی دے رہی ہے۔• पहले डोनाल्ड ट्रंप हत्यारे असीम मुनीर की तारीफ करता है• फिर अपने सैनिकों को पाकिस्तान भेज वहां ट्रेनिंग करवाता हैये दिखाता है नरेंद्र मोदी की विदेश नीति का कबाड़ा हो चुका है pic.twitter.com/iVJJdynmpn— Congress (@INCIndia) January 17, 2026کانگریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ ’’پہلے ڈونالڈ ٹرمپ قاتل عاصم منیر کی تعریف کرتا ہے، پھر اپنے فوجیوں کو پاکستان بھیج کر وہاں ٹریننگ کرواتا ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ نریندر مودی کی خارجہ پالیسی کا کباڑا ہو چکا ہے۔‘‘ اس پوسٹ میں ایک ویڈیو بھی ہے، جس میں کانگریس نے موجودہ حالات پر مودی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ ویڈیو میں کہا گیا ہے کہ ’’نریندر مودی کی خارجہ پالیسی پوری طرح فلاپ ہو چکی ہے۔ اب امریکہ اور پاکستان کے فوجی ایک ساتھ ٹریننگ لے رہے ہیں، وہ بھی پاکستان میں۔ اس ایکسرسائز کا نام ’انسپایرڈ گیمبٹ‘ رکھا گیا ہے۔‘‘ویڈیو میں یہ بھی جانکاری دی گئی ہے کہ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کے امریکہ جانے کے کچھ مہینوں بعد ہی امریکہ کے فوجی افسر کہہ رہے تھے کہ ’پاکستان ہمارا خاص ساتھی ہے‘۔ ٹرمپ بھی بار بار ہندوستانیوں کے قاتل فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کرتے رہتے ہیں، اور اب پاکستان کے ساتھ امریکہ فوجی ٹریننگ لے رہے ہیں۔ ان باتوں کا ذکر کرنے کے بعد کانگریس نے 5 سوالات وزیر اعظم کے سامنے رکھ دیے ہیں، جو اس طرح ہیں:خود کو وشو گرو بتانے والے مودی خاموش کیوں ہیں؟آنکھوں سے لیزر والی ریل بنوانے والے ایس جئے شنکر کہاں غائب ہیں؟کود کر آگے آگے تصویر کھنچوانے کا کیا فائدہ ہوا؟آگے بڑھ کر گلے لگنے، بغیر بات کے ہنسنے کا کیا فائدہ ہوا؟آخر عالمی اسٹیج پر ہندوستان الگ تھلگ کیوں ہو گیا ہے؟Modi's weakness on full display: US-Pak joint military drill pic.twitter.com/nU73nhXnor— Congress (@INCIndia) January 17, 2026کانگریس کی ترجمان سپریا شرینیت نے بھی اس معاملے میں مودی حکومت کی تلخ انداز میں تنقید کی ہے۔ انھوں نے چابہار بندرگاہ، ایران و روس سے تیل کی خریداری اور آپریشن سندور کے دوران جنگ بندی معاملہ پر مودی حکومت کے ’سرنڈر کرنے‘ کی وجہ ’ٹرمپ کا خوف‘ بتایا ہے۔ انھوں نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ’’کل خبر آئی کہ امریکہ کے دباؤ اور دھمکی کے سبب مودی حکومت نے ایران کے ساتھ بن رہے چابہار بندرگاہ پروجیکٹ سے ہندوستان کی شراکت داری ختم کر دی۔ سبھی سرکاری ڈائریکٹرس نے استعفیٰ دے دیا اور ویب سائٹ بھی بند کر دی گئی۔ یہ الگ بات ہے کہ 1100 کروڑ روپے جو اس پروجیکٹ میں لگے تھے، وہ حکومت ہند کے نہیں بلکہ آپ (عوام) کے پیسے تھے۔‘‘کانگریس نے سپریا شرینیت کی یہ ویڈیو اپنے ’ایکس‘ ہینڈل پر جاری کی ہے۔ اس ویڈیو میں وہ کہتی ہیں کہ ’’اگر چابہار پروجیکٹ ہوتا تو پاکستان کو بائپاس کر ہم سنٹرل ایشیا اور افغانستان تک ڈائریکٹ رسائی حاصل کر لیتے۔ یہ پروجیکٹ ہوتا تو مستقبل میں ہماری انرجی سیکورٹی محفوظ ہوتی۔ ساتھ ہی پاکستان اور چین کا جو گٹھ جوڑ بن رہا ہے، اس کے خلاف بھی یہ ایک بہترین اسٹریٹجک کاؤنٹر تھا۔ لیکن مودی حکومت نے پروجیکٹ سے ہاتھ کھینچ لیے تاکہ ڈونالڈ ٹرمپ ناراض نہ ہو جائیں۔‘‘ انھوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ روس اور جنوبی افریقہ جیسے ممالک نے ایک ’نیول ایکسرسائز‘ کی دعوت دی تھی جس کو مودی حکومت نے قبول نہیں کیا، کیونکہ اس سے ٹرمپ ناراض ہو سکتے تھے۔अमेरिका: ईरान के साथ चाबहार पोर्ट से निकलो मोदी: हाँ जी हाँ जीअमेरिका: BRICS ख़राब है मोदी: हाँ जी हाँ जीअमेरिका: ईरान से तेल ख़रीदना बंद करो मोदी: हाँ जी हाँ जी अमेरिका: रूस से तेल ख़रीदना बंद करो मोदी: हाँ जी हाँ जी अमेरिका: पाकिस्तान से सीज़फायर करो मोदी: हाँ जी… pic.twitter.com/fyeekZf07w— Congress (@INCIndia) January 17, 2026ویڈیو پیغام میں سپریا شرینیت نے ہندوستان کے ذریعہ ایران اور روس سے تیل کی خریداری بند کرنے کا بھی ذکر کیا گیا اور کہا گیا کہ ایسا ٹرمپ کی دھمکی سے ڈر کر کیا گیا۔ اتنا ہی نہیں، ’آپریشن سندور‘ روکنے کا دعویٰ ٹرمپ درجنوں بار کر چکے ہیں جس پر وزیر اعظم مودی نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ کی دھمکی کے سبب ہی جنگ بندی ہوئی، جبکہ پاکستان کی گردن ہندوستانی فوجیوں کی مٹھی میں تھی۔ ان باتوں کو سامنے رکھ کر سپریا شرینیت نے مودی حکومت سے سوال کیا کہ ’’ہم امریکہ کی اتنی جی حضوری کیوں کر رہے ہیں؟‘‘مذکورہ بالا باتوں کو سامنے رکھنے کے بعد سپریا شرینیت نے امریکہ اور پاکستان کے فوجیوں کی ایک ساتھ ہو رہی ٹریننگ سے متعلق تازہ خبر پر اپنی حیرانی ظاہر کی۔ انھوں نے اس عمل کو فکر انگیز قرار دیا اور کہا کہ ’’آج امریکہ نے آفیشیل طور پر بتایا ہے کہ امریکی فوجی اور پاکستانی فوجی ایک ساتھ ٹریننگ کر رہے ہیں، اور وہ بھی پاکستان میں۔ آپ یہ سوچیے کہ دہشت گرد ملک پاکستان کی ٹرمپ لگاتار تعریف کرتے ہیں، عاصم منیر جیسے نسل کشی کرنے والے کو اپنے گھر دعوت دیتے ہیں، لگاتار پاکستان کو دوست بتایا جاتا ہے۔‘‘ وہ آگے کہتی ہیں کہ ’’پی ایم مودی امریکہ سے لوٹ کر آتے ہیں اور امریکہ کے فوجی افسر کہتے ہیں کہ پاکستان بہت عمدہ ملک ہے۔ پھر کیا فائدہ ہو رہا آپ کی خارجہ پالیسی کا؟‘‘اس سوال کے ساتھ ہی سپریا شرینیت پی ایم مودی کے سامنے یکے بعد دیگرے کئی دیگر سوالات داغ دیتی ہیں۔ وہ پوچھتی ہیں کہ ’’آپ کی خارجہ پالیسی کیا پوری طرح ناکام نہیں ہے؟ کیا فائدہ ہو رہا ہے لپک لپک کر گلے ملنے کا؟ کیا فائدہ ہو رہا ہے بغیر بتائے اور بغیر بلائے امریکہ جانے کا؟ کیا فائدہ ہو رہا ہے لپک لپک کر فوٹو کھنچوانے کا اور گلے پڑنے کا؟‘‘ وہ آگے کہتی ہیں کہ ’’حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کی چروری کرتے کرتے ہم نے اپنے اسٹریٹجک مفاد کو، ملک کے مفاد کو کنارے کر دیا ہے۔ مودی جی یہ آپ کی ناکامی ہے۔ ہندوستان کے سارے وزرائے اعظم ہمت والے اور بے خوف ہوئے ہیں۔ آپ کے جیسے بزدل وزیر اعظم کا خمیازہ آج ہندوستان کو بے عزتی برداشت کر کے بھگتنا پڑ رہا ہے۔‘‘