عدالت نے جنوبی کوریا کے سابق صدر یون سُک یول کو مارشل لاء کیس میں 5 سال قید کی سزا سنادی۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سابق صدر یون سُک یول کو انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے اور دسمبر 2024 میں مارشل لاء کا اعلان کرنے کے الزامات پر مجرم قرار دیا گیا۔رپورٹس کے مطابق سابق صدر پر مارشل لاء کے اعلان پر حکام کو اپنی گرفتاری کے وارنٹ پر عمل درآمد سے روکنے اور سرکاری دستاویزات کو من گھڑت بنانے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔جنوبی کوریا کے میڈیا کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ سابق صدر یون سک یول کے خلاف عدالتی فیصلے کو براہِ راست دکھایا گیا۔ایران سے متعلق تمام آپشن بدستور کُھلے ہیں، وائٹ ہاؤسواضح رہے کہ استغاثہ نے سیول سینٹرل ڈسٹرکٹ کورٹ میں حتمی دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ یون سوک یول اور ان کے سابق وزیرِ دفاع کم یونگ ہیون نے اقتدار میں برقرار رہنے کے لیے ایک منظم منصوبہ بنایا تھا۔