نئی دہلی: کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ عمران مسعود نے وزیرِ خارجہ کو ایک خط لکھ کر ایران میں موجود ہندوستانی شہریوں اور طلبہ کی فوری اور محفوظ واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے خط میں ایران کی موجودہ صورتحال کو نہایت تشویش ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، ممکنہ امریکی کارروائیوں اور اندرونی احتجاجی سرگرمیوں کے باعث وہاں مقیم ہندوستانیوں کو سنگین مشکلات اور خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔عمران مسعود نے زور دیا کہ تہران میں واقع ہندوستانی سفارت خانے کو فوری طور پر فعال کردار ادا کرتے ہوئے تمام ہندوستانی شہریوں اور طلبہ سے رابطہ قائم کرنا چاہیے، تاکہ ان کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بروقت مدد فراہم کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں معمولی تاخیر بھی بڑے انسانی مسئلے کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔خط میں انہوں نے نشاندہی کی کہ دنیا کے کئی ممالک پہلے ہی اپنے شہریوں کو ایران سے نکالنے کے لیے خصوصی پروازوں کا انتظام کر چکے ہیں، اس لیے ہندوستانی حکومت کو بھی خصوصی پروازیں شروع کرنی چاہئیں تاکہ وطن واپسی کا عمل تیز اور محفوظ ہو سکے۔ایران میں جاری بدامنی کے درمیان اسرائیل میں ہندوستانی سفارت خانے کی ایڈوائزریانہوں نے خاص طور پر ان ہندوستانی مزدوروں کا ذکر کیا جو ایران میں روزگار کے سلسلے میں مقیم ہیں اور جن کی مالی حالت اتنی مضبوط نہیں کہ وہ خود اپنے اخراجات پر وطن واپس آ سکیں۔عمران مسعود کے مطابق ایسے شہریوں کی بحفاظت اور باعزت واپسی حکومت کی اخلاقی اور آئینی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اس معاملے میں فوری فیصلہ لے اور عملی اقدامات کے ذریعے یہ پیغام دے کہ بیرونِ ملک موجود ہر ہندوستانی کی جان حکومت کے لیے قیمتی ہے۔ایران بحران: ہلاکتوں اور پھانسیوں سے متعلق ٹرمپ کے دعوے، تہران کی تردید، امریکی فوجی کارروائی پر غیر یقینی برقراراسی دوران، بین الاقوامی مالیاتی ادارے کے معاشی اعداد و شمار پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے عمران مسعود نے کہا کہ اگر ہندوستان کو پانچ ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانا ہے تو اس کے لیے کم از کم دس فیصد سالانہ ترقی ضروری ہے، جبکہ موجودہ شرحِ نمو پر اطمینان کا اظہار تشویش ناک ہے۔مزید برآں، نامور موسیقار اور گلوکار اے آر رحمان کے حالیہ بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر عالمی سطح پر اعزاز یافتہ شخصیت کو بھی اپنے ہی ملک میں مواقع کے فقدان کی شکایت ہو تو یہ پورے سماج کے لیے سنجیدہ سوال ہے۔ ان کے مطابق محض مذہب کی بنیاد پر مواقع سے محرومی کسی بھی صورت قابل قبول نہیں اور اس پر فوری توجہ دی جانی چاہیے۔