اندور پہنچے راہل گاندھی، آلودہ پانی سے بیمار لوگوں اور متوفیوں کے اہل خانہ سے ملاقات، حکومت کی لاپرواہی کو بتایا ذمہ دار

Wait 5 sec.

لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی ہفتہ کے روز مدھیہ پردیش کے اندور پہنچے اور آلودہ پانی پینے سے بیمار ہوئے لوگوں اور متوفیوں کے اہل خانہ سے ملاقات کرکے ان کی داد رسی کی۔ اندور کے بھاگیرتھ پورہ علاقے میں حال ہی میں الٹی اور اسہال کی شدید وباء پھیل گئی تھی جسے پانی کی آلودگی سے جوڑا جا رہا ہے۔ اس معاملے میں درجنوں افراد بیمار ہو ئے اور کئی لوگوں کی موت ہوگئی۔کانگریس رہنما راہل گاندھی سنیچر کو صبح 9:30 بجے خصوصی پرواز کے ذریعے دہلی سے روانہ ہوئے اور تقریباً 11:00 بجے اندور ہوائی اڈے پہنچے۔ اس کے بعد وہ براہ راست بمبئی اسپتال پہنچے جہاں انہوں نے زیرعلاج مریضوں سے ملاقات کی۔ اسپتال میں انہوں نے تشویشناک حالت میں داخل مریضوں کے لواحقین سے بات کی اور ان کا حال دریافت کیا۔इंदौर में हमें स्मार्ट सिटी का वादा किया गया था। यह स्मार्ट सिटी का नया मॉडल है, जहां पीने का पानी नहीं है और लोगों को धमकाया जा रहा है। इंदौर में दूषित पानी पीने से लोगों की मौत हुई है। यह सरकार का शहरी मॉडल है और यह सिर्फ इंदौर तक सीमित नहीं है, बल्कि कई शहरों में यही हो रहा… pic.twitter.com/smorxKzJ47— Jitendra (Jitu) Patwari (@jitupatwari) January 17, 2026بھاگیرتھ پورہ میں متاثرین کے اہل خانہ سے ملاقات کرتے ہوئے لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے کہا کہ جن لوگوں نے یہ کیا... حکومت میں کوئی نہ کوئی اس کے لیے ذمہ دار ہوگا۔ حکومت کو اس کی ذمہ داری لینی چاہئے.... یہ حکومت کی لاپرواہی کی وجہ سے ہوا ہے۔کانگریس لیڈر نے بھاگیرتھ پورہ علاقے کا بھی دورہ کیا جہاں انہوں نے ان خاندانوں سے ملاقات کی جنہوں نے اس سانحہ میں اپنے پیاروں کو کھو دیا ہے۔ راہل گاندھی نے متاثرہ خاندانوں کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے اور اس کی ذمہ داری طے کی جانا چاہیے۔اندور میں آلودہ پانی سے 21 اموات، کانگریس کا جسٹس مارچ، ایک کروڑ معاوضے اور قتل کے مقدمے کا مطالبہاس موقع پر ریاستی کانگریس کے صدر جیتو پٹواری نے دعویٰ کیا کہ آلودہ پانی پینے سے اب تک 24 لوگوں کی موت ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 8 سے 10 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے اور ان کا علاج جاری ہے۔ پٹواری نے کہا کہ یہ پوری طرح انتظامی غفلت کا معاملہ ہے اور عوام کو صاف پانی فراہم کرانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔جیتو پٹواری نے یہ بھی کہا کہ کانگریس راہل گاندھی کی موجودگی میں اندور میں پانی کے مسئلہ کے مستقل حل پر بات چیت کرنے کے لیے میٹنگ کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف فوری کارروائی کافی نہیں ہے بلکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ٹھوس پالیسی بنائی جائے۔کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی کے دورے سے کانگریس پارٹی نے واضح طور پر اشارہ دے دیا ہے کہ پارٹی اس مسئلے کو سیاسی اور سماجی دونوں سطحوں پر اٹھائے گی تاکہ علاقے میں پانی کے مسئلے کےمستقل حل کی سمت میں حکومت پر دباؤ بنایاجاسکے۔ اس دوران علاقائی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر انتظامیہ بروقت کارروائی کرتی تو اتنے بڑے سانحے کو روکا جا سکتا تھا۔