ریاض (17 جنوری 2026): شمالی سعودی عرب کے غاروں میں قدرتی طور پر محفوظ شدہ چیتوں کی پہلی سائنسی دریافت سامنے آئی ہے، محققین کو مجموعی طور پر 7 قدرتی طور پر حنوط شدہ چیتے ملے ہیں۔یہ اہم سائنسی تحقیق نیشنل سینٹر فار وائلڈ لائف ڈویلپمنٹ کی جانب سے کی گئی، جسے عالمی شہرت یافتہ جریدے ’’نیچر: کمیونیکیشنز ارتھ اینڈ انوائرمنٹ‘‘ میں شائع کیا گیا ہے۔مقالے میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کے غار حیاتیاتی تنوع کے قدرتی ذخیرے ہیں، تحقیق کے مطابق انہی غاروں میں قدرتی طور پر حنوط شدہ چیتوں کی پہلی باقاعدہ سائنسی دستاویز بندی کی گئی۔مذکورہ غاروں میں مختلف ادوار سے تعلق رکھنے والے چیتوں کے 54 ڈھانچوں کی باقیات بھی دریافت ہوئیں۔ یہ دریافت اس بات کا ثبوت ہے کہ چیتا نسبتاً حالیہ دور تک جزیرہ نما عرب میں موجود رہا ہے۔مجلة nature تنشر ورقة علمية للمركز الوطني لتنمية الحياة الفطرية حول اكتشاف فهود محنطة طبيعيًا في كهوف المملكة.https://t.co/uiIopjVcam#واس pic.twitter.com/teTV6HYVF9— واس العلمي (@SPA_sci) January 15, 2026یہ مطالعہ ایک وسیع فیلڈ سروے پر مبنی تھا، جس کے دوران مملکت کے شمالی علاقوں میں واقع 134 غاروں کی جانچ کی گئی۔ سعودی پریس ایجنسی کے مطابق محققین نے دریافت شدہ نمونوں کی عمر، جینیاتی تعلق اور عمر کے گروہوں کا تعین کرنے کے لیے ریڈیو کاربن ڈیٹنگ، مکمل جینیاتی تجزیہ اور ریڈیو گرافی جیسی جدید سائنسی تکنیکیں استعمال کیں۔گرین لینڈ پر قبضے کی امریکی خواہش کے پیچھے کس کاسمیٹکس کمپنی کا ہاتھ نکلا؟تحقیقی نتائج سے معلوم ہوا کہ یہ چیتے مختلف طویل زمانی ادوار میں ان غاروں میں موجود رہے۔ سب سے قدیم نمونہ تقریباً 4800 سال پرانا جب کہ سب سے جدید تقریباً 127 سال قدیم ہے۔ یہ شواہد اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ چیتا جزیرہ نما عرب میں معدوم ہونے سے پہلے تک یہاں آباد رہا تھا۔جینیاتی تجزیوں سے یہ بھی انکشاف ہوا کہ دریافت شدہ چیتے دو بڑی نسلوں، یعنی ایشیائی چیتے اور شمال مغربی افریقی چیتے، سے قریبی جینیاتی تعلق رکھتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ معلومات مستقبل میں چیتوں کی دوبارہ آبادکاری کے لیے موزوں نسل کے انتخاب میں ایک مستند سائنسی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ واضح رہے کہ مملکت گزشتہ برسوں کے دوران ہرن اور عربی بارہ سنگھا (یعنی چیتے کے قدرتی شکار) کی کامیاب دوبارہ آبادکاری کر چکی ہے۔مطالعے میں غاروں کے کردار کو بھی نمایاں کیا گیا ہے، جہاں کے مخصوص ماحولیاتی حالات نے جانوروں کی باقیات کو قدرتی طور پر محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس دریافت نے جزیرہ نما عرب میں چیتے کی ارتقائی تاریخ اور اس کے قدیم جغرافیائی پھیلاؤ سے متعلق موجود علمی خلا کو پُر کرنے کا ایک نادر موقع فراہم کیا ہے۔